عدالت کی کرکٹر عرفان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایت -
The news is by your side.

Advertisement

عدالت کی کرکٹر عرفان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی ہدایت

لاہور: عدالت نے کرکٹر محمد عرفان کا نام مشروط طور پرایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی ہدایت کر دی‘ محمد عرفان کا کہنا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں آج بروز جمعرات جسٹس شمس محمود مرزا نے کیس کی سماعت کی ‘ جس میں کرکٹر محمد عرفان نے موقف اختیار کیا کہ پی سی بی نے انہیں سپاٹ فکسنگ کے تمام الزامات سے بری کر دیا ہے لہذا ان کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپاٹ فکسنگ کیس میں چھ دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ان کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا ‘تاہم اب الزامات سے بری ہونے کے باوجود ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رکھنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب جانا چاہتے ہیں لہذا عدالت ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کا حکم دے۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بورڈ نے درخواست گزار کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نہیں ڈلوایا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب داخل کرنے کے لئے مہلت کی استدعا کی اور کہا کہ اگر عدالت کرکٹر عرفان کو ایک مرتبہ بیرون ملک جانے کی اجازت دیتی ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ‘ جس پر عدالت نے کرکٹر محمد عرفان کا نام مشروط طور پرایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی ہدائت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ای سی ایل سےنام نکالا جائے‘ محمد عرفان کی درخواست* 

یاد رہے کہ محمد عرفان کی جانب سے گزشتہ ماہ دائر کردہ درخواست میں وفاقی حکومت‘ پاکستان کرکٹ بورڈ‘ ایف آئی اے سمیت دیگرکو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی سی بی نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا، حالانکہ انہوں نے کبھی ملکی مفاد اور نیک نامی کے خلاف کوئی کام کیا نہ ہی کبھی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث رہے۔اس کے باوجود انہیں چھ ماہ تک معطل رکھا گیا۔

محمد عرفان کا کہنا ہے کہ اب معطلی ختم ہو چکی ہے اور وہ قائداعظم ٹرافی بھی کھیل رہے ہیں، الزامات سے بری ہونے کے باوجود ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا ۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں