The news is by your side.

Advertisement

“سانگھڑ”: آزادی کے متوالوں کی داستان

سانگھڑ صوبہ سندھ کا تاریخی شہر ہے جس نے اپنے دور کے حکم رانوں، ‌سورماؤں، حُریت پسندوں کو دیکھا اور یہاں کی مٹی کئی اہم واقعات کا گواہ ہے۔ برطانوی راج آیا تو سانگھڑ نے آزادی کے متوالوں کے تیور بھی دیکھے۔ سندھ کے اسی علاقے کے دلیروں اور بہادروں کی داستان “سانگھڑ” کے نام سے محمد عثمان ڈیپلائی نے رقم کی تھی جو سندھی زبان میں ان کی مشہور اور قابلِ ذکر ادبی کاوش ہے۔

1981ء) سندھی اور اردو زبان کے معروف ادیب، مترجم اور جیّد صحافی محمد عثمان ڈیپلائی 1908 میں‌ پیدا ہوئے۔ ضلع تھرپارکر کے اس باسی کو شروع ہی سے علم و ادب سے رغبت ہوگئی اور باقاعدہ اور رسمی تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود علم و فنون میں‌ ان کی دل چسپی اور لگن نے انھیں‌ اردو اور سندھی زبانوں‌ کے ادیبوں کی صف میں‌ لاکھڑا کیا۔ ڈراما نویسی بھی ان کا ایک حوالہ ہے۔

محمد عثمان ڈیپلائی نوعمری ہی میں سندھی اور اردو زبان میں کہانیاں لکھنے لگے تھے اور بعد کے برسوں‌ میں‌ علمی اور ادبی مضمون نگاری کے ساتھ تاریخی ناول نگاری میں‌ شہرت اور مقام حاصل کیا۔

محمد عثمان ڈیپلائی سندھی زبان کے اخبار کے بانی اور مدیر رہے۔ انھوں نے آزادی صحافت کی خاطر قید و بند کی صعوبت بھی برداشت کی۔

“سانگھڑ” وہ ناول ہے جس میں‌ انھوں‌ نے انگریز سامراج کے خلاف آزادی کی سندھ کی زمین پر جدوجہد کو موضوع بنایا ہے۔ ان کا یہ ناول دراصل پیر صبغت اللہ شاہ راشدی اور ان کے ساتھیوں‌ کی آزادی کی داستان ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بعد از مرگ صدارتی اعزاز برائے حسنِ کارکردگی ان کے نام کیا تھا۔ محمد عثمان ڈیپلائی 1981 کو وفات پا گئے تھے۔ ان کے ناولوں‌ میں‌ گلستانِ حسن، گمراہ مسافر، مجاہدِ‌ کشمیر، عید جو چنڈ، سنگ دل شہزادی، مجاہدِ مصر، جب کہ ڈراما اسلام تے مقدمو، اور افسانے درد جو شہر کے نام سے شایع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں