The news is by your side.

Advertisement

افغان خاندان جس نے دہائیوں تک ملتان پر حکومت کی

ملتان میں سدوزئی خاندان کی حکومت کا آغاز احمد شاہ ابدالی کے تختِ کابل پر براجمان ہونے سے پہلے ہو چکا تھا۔

تختِ دہلی سے ایک دور دراز صوبہ ہونے کی وجہ سے ملتان 1752ء میں افغان بادشاہوں سے وابستگی رکھنے والا صوبہ بن گیا تھا، لیکن یہ وابستگی برائے نام تھی۔

ملتان پر زیادہ تر پٹھان نسل کے گورنر حکم ران رہے، یہ وہی پٹھان خاندان تھے جنہوں نے گاہے بہ گاہے افغانستان سے بھاگ کر ملتان میں پناہ لی تھی۔ ملتانی پٹھان کہلوانے والے ان خاندانوں نے آہستہ آہستہ اتنی طاقت پیدا کر لی تھی کہ صوبہ ملتان ان کی دسترس میں آ گیا تھا۔

یہ ایک ایسی بادشاہت تھی، جو عملی اعتبار سے ہر طرح خود مختار تھی۔ یوں تو ملتان میں سولہویں اور سترہویں صدی کے دوران افغانستان سے بہت سے پٹھان خاندان آ کر پناہ گزین ہوئے لیکن ان خاندانوں میں سدوزئی خاندان اس لیے نمایاں حیثیت کا حامل تھا کہ اسی خاندان میں احمد شاہ ابدالی جیسا سپہ سالار پیدا ہوا۔ دوسرا اس خاندان نے ملتان کو سات حاکم دیے۔

ملتان میں سدوزئی خاندان کے اقتدار کا زمانہ 50 سال سے زائد بنتا ہے۔ ملتان کا یہ سدوزئی خاندان 1652ء میں مغل حکم ران اورنگزیب عالمگیر کے ہمراہ ملتان آیا۔ اس وقت اس خاندان کا سربراہ شاہ حسین سدوزئی تھا۔ شاہ حسین سدوزئی کے بعد سدوزئی خاندان کا سربراہ نواب عابد خان کو بنایا گیا، نواب عابد خان کی وفات پر ملتان کے سدوزئی خاندان میں سرداری پر جھگڑا ہو گیا لیکن پھر اس خاندان نے نواب زاہد خان کو اپنا سردار تسلیم کر لیا۔ نواب زاہد خان جنہیں نواب زکریا خان، گورنر لاہور نے ملتان میں اپنا نائب مقرر کیا تھا، اپنی قوم پر بڑا مہربان رہا۔

نواب زاہد خان کے لاہور دربار کے ساتھ دہلی دربار سے بھی تعلقات تھے۔ نواب زاہد خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے وزیرِ دہلی قمر الدین اور معروف شاعر سراج الدین خان آرزو کے توسط سے ملتان کی نظامت کا پروانہ حاصل کیا۔

نواب زاہد خان کو ابھی اقتدار سنبھالے کچھ عرصہ ہی ہوا تھا کہ خواجہ اسحاق کابل سے ملتان کی صوبیداری کا پروانہ لے کر آ گیا، لیکن نواب زاہد خان جلد ہی ملتان کی نظامت پر بحال ہو گیا۔ کچھ عرصہ بعد نواب زکریا خان نے نواب عزیز خان سدوزئی کو ملتان کا گورنر بنا دیا جس پر نواب زاہد خان اور نواب عزیز خان میں جنگ چھڑ گئی۔ مغل فوج نے نواب عزیز خان کا ساتھ دیا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ نواب زاہد خان کا بڑا بیٹا نواب شاکر خان بھی اس جنگ میں باپ کے خلاف نبردآزما تھا۔ جنگ میں نواب زاہد خان کو شکست ہوئی اور وہ اسی غم میں مر گیا۔

نواب زاہد خان جسے ساری عمر عیش و عشرت اور سرود سے نفرت رہی، ملتان میں سدوزئی اقتدار کا بنیاد گزار تھا۔ مثنوی مولانا روم اور امام غزالی کی ’کیمیائے سعادت‘‘ ہر وقت اس کے مطالعہ میں رہتی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں