The news is by your side.

ممبئی حملہ، بھارت، امریکا اور اسرائیل کا منصوبہ تھا، جرمن مصنف کا انکشاف

برلن: جرمنی سے تعلق رکھنے والے مصنف ایلیس ڈیوڈسن نے ممبئی حملہ کیس میں بھارت، امریکا اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے اپنی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ یہ حملہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق جرمن مصنف نے بھی ممبئی حملہ کو بھارت، امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دے دیا، یاد رہے کہ ممبئی میں 2008 کو ہونے والے حملے سے متعلق بھارتی پولیس افسر نے اپنی کتاب ’’کرکرے کی موت‘‘ میں انڈین حکومت کا مکروہ چہرہ عیاں کیا تھا۔

بھارتی اخبار میں شائع ہونے والے آرٹیکل میں محمد اسلم نامی صحافی نے پولیس افسر کی کتاب کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا ’’اجمل قصاب کو ممبئی حملے سے تین سال قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را نے نیپال کی حکومت کی مدد سے حراست میں لے لیا تھا اور ان کی جعلی گرفتاری ظاہر کر کے مجرم بنایا‘‘۔

یاد رہے کہ مہارشٹرا کے (ر) افسر ایم مشرف نے اپنی کتاب میں تحریر کیا کہ ’’خفیہ ایجنسی را نے کھٹمنڈو کے قریب سے اجمل قصاب کو اغوا کیا اور اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ممبئی حملوں کے دوران اُسے سامنے لے آئی، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ جس خاتون عینی شاہد نے اجمل قصاب کو پہچاننے سے انکار کیا پولیس نے اُس کے خلاف بھی مقدمہ درج کردیا‘‘۔

مزید پڑھیں: ممبئی حملہ کیس، مودی حکومت راہ فرار اختیار کرنے لگی

کرکرے کی موت نامی کتاب ایک مایہ ناز تفتیشی افسر ہیمنت کی موت کے گرد گھومتی ہے اور اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’ممکنہ طور پر ممبئی حملے کا ڈرامہ ہیمنت کرکرے کی ہلاکت کے لیے ہی رچایا گیا تھا، مصنف نے بھارتی خفیہ ایجنسی کو سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کا بھی مجرم قرار دیا تھا۔

تاہم اب جرمن مصنف ایلیس ڈیوڈسن نے اپنی نئی کتاب The Betrayal Of India میں انکشاف کیا ہے کہ ممبئی حملہ بھارت، اسرائیل اور امریکا کے گڑھ جوڑ کا منصوبہ تھا، تینوں ممالک کی اعلیٰ شخصیات نے تمام تر حکمت عملی مرتب کی تاکہ بھارت کے پڑوسی ملک یعنی پاکستان پر شدت پسندی کا الزام لگا کر اپنے اہداف حاصل کیے جائیں۔

منصنف نے دعویٰ کیا کہ ممبئی حملہ میں حصہ لینے والے دہشت گرد نئی دہلی کے نریمان ہاؤس میں 15 روز سے مقیم تھے اور اس دوران وہ امریکا کے فون نمبر استعمال کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ممبئی حملہ کیس: سیکریٹری خارجہ اور ترجمان دفتر خارجہ عدالت میں پیش

ایلیس ڈیوڈسن نے اپنی کتاب میں تحریر کیا ہے کہ ممبئی حملہ کیس کی تحقیقات سے پانچ جیزیں ثابت ہوگئیں، سب سے پہلے تو بھارتی حکومت اور تفتیشی اداروں نے واقعے کے اصل حقائق کو چھپایا اور انہیں مسخ کیا جبکہ عدالتیں بھی واقعے کی حقائق تلاش کرنے اور انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔

مصنف نے تیسرے نقطے میں کرکرے اور دیگر افسران کی موت کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ممبئی حملے میں ان افسران کو اس لیے قتل کیا گیا کہ ہندو انتہاء پسند حلقوں کو مضبوط کیا جائے ۔

انہوں نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ ان حملوں سے نہ صرف بھارت بلکہ امریکا اور اسرائیل کے تاجروں ، سیاستدانوں اور عسکری حلقوں نے خوب فائدہ اٹھایا جبکہ پاکستان پر ان تینوں ممالک نے بے بنیاد اور سنگین الزامات عائد کر کے شدید نقصان پہنچایا۔

اسے بھی پڑھیں: اجمل قصاب ممبئی حملے میں ملوث نہیں تھا، بھارتی افسر کا انکشاف


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں