The news is by your side.

نامور ادیب مشتاق کاملانی کی حالتِ زار، وزیرثقافت کا نوٹس، آئی جی کی ملاقات

ایس ایس پی سجاول نے مصنف سے گزشتہ رات ملاقات کر کے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا

ٹھٹہ: وزیرثقافت سید سردار علی شاہ نے نامور ادیب اور استاد مشتاق کاملانی کی حالتِ زار کا نوٹس لیتے ہوئے فوری علاج کروانے کی ہدایت جاری کردی جبکہ ایس ایس پی ضلع سجاول نے ایک ماہ کی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک روز قبل مشتاق کاملانی کی تصاویر وائرل ہوئیں جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ وہ بھیک مانگ کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔

نجی نشریاتی ادارے سے وابستہ صحافی امتیاز چانڈیو نے تصویر شیئر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ’یہ کوئی عام فقیر نہیں بلکہ ضلع سجاول سے تعلق رکھنے والے مصنف ہیں جنہیں نہ صرف سندھی بلکہ پنجابی اور انگریزی زبانوں پر بھی مکمل عبور حاصل ہے‘۔

مزید پڑھیں: صدارتی ایوارڈ یافتہ لوک فنکار کسمپرسی کے باعث اپنے اعزازات بیچنے پر مجبور

انہوں نے بتایا کہ نامور ادیب اور کہانی نویس مشتاق کاملانی  کے گھر پر قبضہ ہوگیا اس لیے وہ معاشی تنگ دستی اور حالات کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

سوشل میڈیا پر تصاویر وائرل ہوئی تو صوبائی وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے نامور ادیب مشتاق کاملانی کی بیماری و کسمپری کا نوٹس لیتے ہوئے کلچر ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو فوری طور پر  علاج کروانے کی ہدایت کی۔

دوسری جانب ایس ایس پی سجاول سعود مگسی نے گزشتہ روز مشتاق کاملانی نے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اُن کے ساتھ کھانا کھایا، انہیں اجرک تحفے میں پیش کی اور  معروف ادیب کو اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سمیت علاج کی تمام ذمہ داری اٹھانے کا بھی اعلان کیا۔

بعد ازاں ایس ایس پی سجاول کی ہدایت پر  ڈاکٹر محمد علی اور ڈاکٹر عرفان شاہ پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے ایس ایس پی آفس میں نامور ادیب کا طبی معائنہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آر وائی کی خبر کا اثر : ماضی کی صحافی اور شاعرہ روبینہ پروین اسپتال منتقل

علاوہ ازیں آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے کہانی نویس اور بیشمار کتابوں کے مصنف کی عیادت کی اور  علاج معالجے کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کرنے پر ایس ایس پی سجاول امیرسعود مگسی کے جذبے کو سراہتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔

مشتاق نے سندھ یونیورسٹی جامشورو سے سنہ 1979 میں گریجویٹ کیا، بعد ازاں  آپ نے پنجابی، سندھی اور انگلش زبانوں پر عبور حاصل کیا اور کہانی نویسی کا آغاز کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں