The news is by your side.

Advertisement

کیا موسیقی جرائم کا راستہ روک سکتی ہے؟

یہ وینزویلا کی اس ہمہ جہت شخصیت کا تذکرہ ہے جو فنونِ لطیفہ کو سماج میں تبدیلی لانے کا مؤثر ذریعہ مانتے تھے۔

انھوں نے اپنے وطن میں موسیقی کے ذریعے تبدیلی کا آغاز کیا اور خاص طور پر نوجوانوں کو اس طرف راغب کیا۔

ہم بات کررہے ہیں Jose Antonio Abreu کی جو وینزویلا میں تعلیم، اقتصادیات، سیاست سمیت آرٹ کے مختلف شعبوں کا اہم اور روشن حوالہ ہیں اور 2018 میں آج ہی کے دن اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

انھیں اپنے فلسفے اور نظریات کے علاوہ سماجی خدمات کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔

وہ 1939 میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے وینزویلا میں لگ بھگ تیس برس قبل سماجی برائیوں اور سنگین نوعیت کے جرائم کی روک تھام کے لیے موسیقی کی مدد لینے کا ایک نظریہ پیش کیا۔ ان دنوں ملک میں ہر طرف قتل و غارت گری اور نوجوان منشیات کے عادی تھے۔ بدامنی، کرپشن کے علاوہ گینگ وار میں روزانہ ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا۔

حکومت کو قائل کرتے ہوئے انھوں نے ملک میں دو برس کی عمر سے بچوں کو مفت موسیقی سکھانے کا سلسلہ شروع کیا۔

اس طریقہ تعلیم میں سماج کو مرکزی اہمیت حاصل تھی اور ایسی کلاسوں میں بچوں کو ایک دوسرے کا احترام اور باہمی تعاون کا درس بھی دیا جاتا۔ رفتہ رفتہ حالات بہتر ہوئے اور آج بھی وینزویلا میں موسیقی کو مثبت تبدیلیوں اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم خیال کیا جاتا ہے۔

(تلخیص و ترجمہ: عارف عزیز)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں