The news is by your side.

Advertisement

تصویرِ جاناں کیوں‌ نہیں‌ بنوائی؟

ایک نواب کے دربار میں وزرا، امرائے سلطنت کے علاوہ علما اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

دربار میں‌ موجود لوگوں میں ایک نابینا کے علاوہ فقیر، عاشق اور ایک عالم بھی شامل تھا۔

نواب صاحب نے ایک مصرع دے کر ان چاروں سے کہا کہ شعر مکمل کریں۔

وہ مصرع تھا:

“اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں”

نابینا نے شعر یوں مکمل کیا:

اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں

فقیر نے کہا:

مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں

عاشق نے تو گرہ لگائی:

ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں

نواب نے سلطنت کے نیک نام اور پرہیز گار عالم کی طرف دیکھا تو انھوں‌ نے یوں شعر مکمل کیا:

بت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں
اس لیے تصویرِ جاناں ہم نے بنوائی نہیں

کہتے ہیں ہر شخص کی سوچ اور فکر کا زاویہ مختلف ہوتا ہے اور وہ اپنے علم، مطالعے کے ساتھ اپنے مشاہدے اور تجربات کی روشنی میں‌ کسی مسئلے اور نکتے کو بیان کرتا ہے اور یہی اس دربار میں ہوا۔

سبھی اس شعر پر جھوم اٹھے اور نواب نے عالم صاحب کو خوب داد دی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں