site
stats
عالمی خبریں

بھارت: گائے ذبحیہ کا الزام، ایک اور مسلمان قتل

نئی دہلی: بھارت کے علاقے الواڑ میں گائے کو ذبیحہ کرنے کے الزام پر مشتعل  ہندوؤں انتہاء پسندوں نے تشدد کر کے ایک مسلمان  کو جاں بحق جبکہ دو کو شدید زخمی کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راجھستان کے علاقے ہریانہ میں 10 نومبر کو مشتعل مظاہرین نے گاڑی میں گائے لے جانے والے نوجوان پر شدید تشدد کیا جس کے باعث وہ جاں بحق ہوگیا، جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت عمر عبداللہ کے نام سے ہوئی۔

الوار ڈسٹرکٹ کے گاؤں فاہاری میں ہونے والے واقعے کے بعد ایک بار پھر مسلمانوں کے زخم تازہ ہوگئے، پولیس نے روایتی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارے واقعے کے دوران خاموشی اختیار کی۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مقتول اپنے دو مسلمان دوستوں کے ہمراہ گائے ہریانہ کے علاقے میوات سے بھارت پور ریاست لے جارہا تھا کہ مشتعل ہجوم نے گاڑی کو دیکھ کر اُس پر حملہ کردیا۔

مزید پڑھیں: بھارت: گائے کے گوشت کا شبہ، ہندوؤں کا 5 افراد پر بدترین تشدد

مقتول عمر عبداللہ 8 بچوں کا باپ تھا جسے مشتعل ہندؤں انتہاء پسندوں نے بغیر کچھ تصدیق کیے تشدد کے بعد قتل کردیا، واقعے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کی شناخت طاہر کے نام سے ہوئی۔

مقتول کے رشتے دار نے واقعے کے خلاف تھانہ الوار میں مقدمہ درج کروانے کے لیے درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گائے ذبیحہ کے لیے نہیں لے جائی جارہی تھیں۔ واقعے کے دو روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہوسکا۔

اطلاعات ہیں کہ واقعہ ہندو انتہاء پسندوں کے گاؤ رکشا گروپ کے سربراہ راکیش کی ہدایت کے بعد پیش آیا، میوات کمیونٹی کے لوگوں نے حکومت کے غیر سنجیدہ رویے پر احتجاج کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نریندر مودی نے وزیراعظم بننے سے قبل اپنی انتخابی مہم میں یہ اعلان کیا تھاکہ وہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعد گائے کو مقدس قرار دیتے ہوئے اس کے ذبیحہ پر مکمل پابندی عائد کردیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: گائے کا گوشت رکھنے کے جرم میں7افراد پرہجوم کا بدترین تشدد

بعد ازاں بے جے پی کی حکومت آنے کے بعد سے کئی بھارتی ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ گائے کے تحفظ کے لیے قوانین بھی منظور کیے گئے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد ہندو انتہاء پسند بے قابو ہوگئے ہیں اور آئے روز کسی گائے کا گوشت رکھنے کا الزام لگا کر کسی بھی مسلمان کو شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top