The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو قتل کردیا

جھاڑکھنڈ : بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی مسلمان دشمنی عروج پرپہنچ گئی ہے، ریاست جھاڑکھنڈ میں انتہاپسندوں نے ایک اور مسلمان نوجوان کو بدترین تشدد کر کے قتل کردیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست جھاڑکھنڈ ضلع کھرسانواں میں ہندوانتہاپسندوں کے ہجوم نے مسلمان نوجوان شمس تبریز انصاری کو موٹر سائیکل چوری کا بہانہ بنا کربہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

وہ مظلوم چیختا رہا کہ اس نے چوری نہیں کی، ظالموں نے تبریز انصاری کو ستون سے باندھ کر ڈنڈوں اور لاٹھیوں کی بارش کردی اور ہاتھ پاؤں باندھ کرسات گھنٹے تک تشدد کیا گیا جبکہ جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔

نوجوان ہجوم سے جان بخشنے کی درخواست کرتا رہا لیکن شدید زخمی تبریز انصاری کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرکے اسے جیل بھیج دیا گیا، طبیعت بگڑنے پر اسے اسپتال لے جایا گیا۔ جب اہل خانہ اس سے ملاقات کے لیے پہنچے تو پولیس نے انہیں تبریز سے یہ کہہ کر ملنے سے روک دیا کہ تم چور سے ملنے آئے ہو۔

مزید پڑھیں :  بھارت میں ہندو انتہا پسند بے قابو، خاتون سمیت  مسلمانوں پر بدترین تشدد

تبریز کئی گھنٹے تک موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

تبریز کے لواحقین نے اس پر عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا پہلے سے کوئی مجرمانہ رکارڈ نہیں تھا، اس کا جرم مسلمان ہونا ہے، اگر وہ مسلمان نہ ہوتا تو زندہ ہوتا اور خاندان نے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارتی پولیس نے تبریز کی موت پر مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔

آل انڈیا انجمن اتحاد المسلمین کےسربراہ اسدالدین اویسی نے بی جےپی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جےپی مسلمانوں کےخلاف نفرت انگیز جذبات پھیلا رہی ہے، کیا یہ نیا بھارت ہے،جو بھارتی وزیراعظم چاہتے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں