The news is by your side.

Advertisement

بھارت: کالج میں نماز ادا کرنا پروفیسر کا جرم بن گیا

بھارتی شہر علی گڑھ کے پرائیویٹ کالج میں نماز ادا کرنا مسلمان پروفیسر کا جرم بن گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے شہر علی گڑھ کے شری سرورشنے کالج میں پروفیسر ایس آر خالد کو کالج کے لان میں نماز کی ادائیگی پر ایک ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ویڈیو سامنے آنے پر انتہا پسند ہندوؤں نے شری سرورشنے کالج انتظامیہ سے پروفیسر خالد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ شروع کردیا تھا۔

ہندو انتہا پسندوں نے پروفیسر پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور کھلے عام نماز کی ادائیگی کو امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

دوسری جانب کالج کے پرنسپل انیل کمار گپتا کا کہنا ہے کہ ’خالد نے انہیں بتایا تھا کہ وہ رش میں تھے اور انہوں نے ایک پارک میں نماز ادا کی۔‘

ادارے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ بی جے وائی ایم سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان لیڈروں کی جانب سے استاد پر بے ضابطگی کا الزام عائد کرنے کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس نے عوام میں نماز پڑھ کر امن کو خراب کرنے کی کوشش کی۔

طالب علم رہنما دیپک شرما آزاد نے دعویٰ کیا کہ کالج کیمپس کے اندر نماز پڑھ کر پروفیسر ’پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے تھے‘

Comments

یہ بھی پڑھیں