The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں سفاک خاتون کا مسلم طالبہ پر بدترین تشدد، ویڈیو وائرل

لندن : ترقی پسند ممالک میں نسلی امتیاز اور تعصب میں مزید اضافہ ہونے لگا، برطانیہ میں تعصب میں مبتلا خاتون کی باحجاب مسلمان طالبہ پر حملے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، جس میں سفاک خاتون نے اسکول طالبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی شہر شیفیلڈ کی رہائشی انتہا پسند خاتون مسلمانوں کے خلاف نفرت میں آپے سے باہر ہوگئی اور مسلمان اسکول طالبہ کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

سفاک برطانوی خاتون کی جانب سے مسلم طالبہ پر کیے جانے والے بدترین تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس کے بعد ویڈیو دیکھنے والوں کی بڑی تعداد نے 40 سالہ خاتون اور اس کے 44 سالہ ساتھی کے فعل کی شدید مذمت کی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ متعصب خاتون گھر جانے کےلیے بس میں سوار ہونے والی مسلم طالبہ پر زبانی نشتر چلانے کے بعد مکّوں کی بارش کردی اور اسے گھیسٹے ہوئے بس سے باہر لائی اور زمین پر گرا کر گلا دبانے کی کوشش کی، اس موقع پر بس میں سوار دیگر افراد نے مداخلت کرکے مسلم طالبہ کی اس وحشی خاتون سے جان بچائی۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی مذکورہ خاتون اور مرد کو نسلی تعصب کی بنیاد پر طالبہ پر حملہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا اور کچھ دیر بعد اسے وارننگ دے کر رہا کردیا تھا تاہم مرد تاحال پولیس کی حراست میں ہے جسے کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔

واقعے کے ایک روز بعد متاثرمسلمان لڑکیوں کی والدہ راشیدہ علی کو ان کے پڑوسی پولیس افسر نے متنبہ کیا کہ متعصب خاتون کو پولیس نے وارننگ دے کر چھوڑ دیا ہے کیونکہ یہ اس کی پہلی غلطی تھی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق متاثرہ طالبہ 14 سالہ ریدینا الہادی اور اس کی 13 سالہ بہن ودع حملہ آور خاتون کی رہائی کے بعد کافی خوفزدہ ہیں کہ کہیں دوبارہ سفاک خاتون سے سامنا نہ ہوجائے کیونکہ اسے سڑکوں پر آزادنہ گھومنے کا اختیار مل گیا ہے۔

ریدینا الہادی کا کہنا تھا کہ میں اسکول نہیں جانا چاہتی کیونکہ میں خود کو بیمار اور ڈرا ہوا محسوس کررہی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بالغ کیسے باحجاب بچے پر حملہ کرسکتا ہے؟ میں ایک جوان لڑکی ہوں جو اپنے گھر آنے کی کوشش کررہی تھی لیکن مجھے میری پہچان کی وجہ سے ٹارگٹ کیا گیا۔

14 ریدینا کا کہنا تھا کہ جب وہ سفاک خاتون میرا گلا دبا رہی تو مجھے احساس ہوا کہ میں مرنے والی ہوں، مجھے تو اب اپنے گھر سے نکلنے میں بھی ڈر لگتا ہے۔ اس خاتون کو دوبارہ سڑکوں پر نہیں آنا چاہیے ورنہ وہ کسی اور مسلمان خاتون کو تشدد کا نشانہ بنائے گی۔

ریدینا الہادی نے واقعے کی تفصیل بتائی کہ میں اپنی بہن اور دیگر سہلیوں کے ہمراہ 4 دسمبر کی شام 4:30 بجے اسکول سے گھر آنے کےلیے بس میں سوار ہوئی تو متعصب خاتون نے بس کے گیٹ پر ہی زبانی بدکلامی کے بعد مجھ پر حملہ کردیا۔

ریدینا کے مطابق متعصب خاتون نے میرا حجاب کھینچا اور میری آنکھ پر گھوسا دے مارا اور میرا سر زمین پر دے مارا جس کے باعث تقریباً 30 سیکنڈ بے حال ہوگئی تھی۔

مقامی میڈیا کے مطابق پولیس تاحال واقعے کی مزید تحقیقات کررہی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں