The news is by your side.

Advertisement

فارابی اور پہرے دار

اس لڑکے نے شروع عمر ہی سے نہایت غربت اور تنگ دستی دیکھی۔ بھوک اور افلاس کا مارا ہوا یہ بچّہ بڑا ہوا تو اس میں علم کی پیاس اور جاننے، سیکھنے کی جستجو پیدا ہوئی اور آگے چل کر وہ علم و فنون میں یکتا اور گوہر آب دار ثابت ہوا۔

یہ تذکرہ ہے ابو نصر فارابی کا جن کا پورا نام محمد بن ترخان ابو نصر تھا اور بعض مؤرخین نے ابو نصر محمد بن اوزیغ بن طرخان بھی لکھا ہے۔ ترکستان کے علاقے فاراب میں 872 عیسوی کو پیدا ہونے والے فارابی 950 عیسوی میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

ہم نے کئی نام ور اور ممتاز شخصیات کے بارے میں پڑھا ہے کہ انھوں نے غربت اور تنگ دستی کے ساتھ حصولِ علم کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں اُٹھائیں۔ فارابی بھی انہی میں‌ سے ایک ہیں۔ تاریخ میں‌ ان سے متعلق ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے۔

نوعمر فارابی ایک رات اپنی درسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے کہ چراغ کا تیل ختم ہو گیا اور وہ چراغ بجھ گیا۔ گھر میں تیل نہ تھا اور ان کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ وہ تیل خریدتے، وہ مایوس ہوگئے اور نہایت مضطرب ہوکر گھر سے باہر نکل آئے۔

اچانک فارابی کی نظر علاقے میں گشت کرتے ہوئے ایک پہرے دار پر پڑی جو ایک لالٹین لے کر ذرا فاصلے پر کھڑا ہوا تھا۔ فارابی پر پڑھنے کی گویا دھن سوار تھی، لپک کر پہرے دار تک پہنچے اور سارا ماجرا سنا کر گزارش کی کہ وہ تھوڑی دیر وہیں رک جائے تاکہ وہ اپنا سبق یاد کر سکیں۔

پہرے دار نے ان کی بات مان لی، مگر چند روز بعد پھر یہی ہوا۔ تب انھوں نے پہرے دار سے رکنے کو کہا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔

فارابی نے اس سے کہا کہ وہ اسے اپنے پیچھے پیچھے چلنے کی اجازت دے تاکہ اُس کی لالٹین کی روشنی میں وہ مطالعہ جاری رکھ سکے۔ پہرے دار نے یہ بات مان لی اور اکثر ایسا ہونے لگا۔ پہرے دار فارابی کی علمی لگن اور جستجو سے بہت متاثر ہوا اور اسے ایک نئی لالٹین لا کر دے دی۔

یہ فارابی علم و فنون کا وہ چراغ بن کر جلا جس کی روشنی سے لاکھوں لوگوں نے فائدہ اٹھایا اور صدیوں‌ بعد بھی یہ چراغِ علم و فن اسی طرح روشن ہے۔ فارابی ارسطو اور افلاطون سے بے حد متاثر تھے۔ انھوں نے ارسطو کی متعدد کتابوں کی شرح لکھی ہیں۔

فارابی فلسفی اور حکیم کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور نجوم اور موسیقی کے علوم کے ماہر جانے گئے۔ ان کی کئی تصانیف مشہور ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں