The news is by your side.

امریکا، مسلم خاتون فوجی کا حجاب اتارنے کے حکم کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی فوج میں شامل مسلمان خاتون نے حجاب اتارنے سے متعلق توہین آمیز روئیے کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سپورٹ بٹالین کی مسلم سارجنٹ کیسیلا ویلڈویانوز نے بتایا کہ وہ باحجاب خاتون ہیں اور ان کے کمانڈ سارجنٹ میجر نے دیگر سپاہیوں کی موجودگی میں جبراً حجاب اتارنے کا حکم دیا۔

مسلم سارجنٹ کا کہنا تھا کہ مسلمان شناخت ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے ہی ساتھی فوجیوں سے انتہائی نفرت آمیز رویے کا سامنا ہے۔

چھبیس سالہ امریکی مسلمان فوجی نے بتایا کہ مجھے بعض اوقات دہشت گرد اور داعش کہہ کر پکارا جاتا ہے، مجھ پر ایسے جملے کسے گئے کہ میں نائن الیون حملے کی ذمہ دار ہوں، فوج میں بہت نفرت اور دشمنی ہے۔

مزید پڑھیں: پولیس کازبردستی حجاب اتارنے پرخاتون کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

کیسسیلا نے کہا کہ اپنے خلاف مذہبی متعصبانہ رویہ اختیار کیے جانے پر فوج کے محکمہ حقوق میں شکایت درج کرائی لیکن اعلیٰ افسران نے اسے غیر مصدقہ قرار دے کر مسترد کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کرنل ڈیوڈ زین نے گزشتہ برس جون میں فوجی یونیفارم کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دی اور جب حجاب پہنا تو تب سے ہی ساتھی فوجیوں کی جانب سے شدید نفرت کا سامنا ہے۔

کیسیلا کا کہنا تھا کہ فوج کے محکمہ حقوق میں ان کی درخواست مسترد ہونے پر وہ امریکی فوج کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکی فوج میں سر ڈھانپنے اور حجاب لینے سے متعلق پالیسی 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی جس کا تذکرہ آرمی مینیول 2017-03 میں درج ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں