The news is by your side.

البیرونی، قرآنی آیات اور جغرافیۂ عالم

قدرت نے البیرونی کو علومِ قطعیہ میں تحقیق و تدقیق ہی کے لیے پیدا کیا تھا۔

ریاضی اور ریاضیاتی علوم کے میدان میں اس کی فکری و تجربی کاوشیں بے پناہ ہیں۔ ہیئت، علمِ پیمائشِ ارض (جیوڈیسی)، علمِ معدنیات، نباتیات، علمُ الانسان، غرض کوئی شعبۂ علم ایسا نہیں جس سے اسے دل چسپی نہ رہی ہو اور جس سے متعلق اس نے کچھ نہ کچھ نہ لکھا ہو۔

اس کی فلسفیانہ بصیرت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اس بصیرت کو جلا ملی تھی مذہب سے، اور اسی کے سہارے اس نے چند اہم مسائل پر غور و فکر کیا تھا۔ ریاضیاتی علوم کا وجدانی اور استخراجی طرزِ تحقیق اور طبیعی اور نیچرل سائنس کا تجربی اور استقرائی طرزِ استدلال ہمیں البیرونی کی تحقیقات اور نگارشات میں موضوع کے اعتبار سے جہاں جس کی ضرورت ہوئی، برابر ملتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ زمانۂ حال میں جدید اصولِ تحقیق کو برتنے والے عالم البیرونی کو اپنے سے بہت قریب پاتے ہیں۔

ایک اور اہم بات جس کی طرف لوگوں کی نظر کم جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ البیرونی کا نقطۂ نظر اس مسئلہ کے بارے میں کہ زمین متحرک ہے یا سورج، عالمانہ اور حکیمانہ تھا۔ ایک متبحر عالم علمی معاملوں میں اپنی رائے میں محتاط ہوتا ہے، جو بات ثابت نہیں ہو سکتی وہ نہ تو اس کا اقرار کرتا ہے اور نہ انکار۔ یہی رویہ البیرونی کا اس مسئلہ سے متعلق تھا کہ زمین متحرک ہے یا سورج۔ کتابُ الہند میں بھی اس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اور استیعاب میں بھی جہاں اس نے اصطرلاب زورقی کے متعلق لکھا ہے۔ استیعاب میں وہ لکھتا ہے:

"ابو سعید سنجری نے ایک بڑا اصطرلاب بنایا تھا جس کا عمل مجھ کو بہت پسند آیا اور میں نے ابو سعید کی بہت تعریف کی، کیونکہ جن اصولوں پر اس نے اس کو قرار دیا تھا وہ کرۂ ارض کو متحرک تسلیم کرتے ہیں۔ میں اپنی جان کی قسم کھاتا ہوں کہ یہ عقدہ ایسی شبہ کی حالت میں ہے کہ اس کا حل کرنا نہایت دشوار اور اس کا رد کرنا نہایت مشکل ہے۔ مہندسین اور علمائے ہیئت اس عقدہ کے رد میں بہت پریشان ہوں گے۔”

اگر اہل یورپ حرکتِ زمینی سے متعلق البیرونی کے خیالات سے واقف ہوتے تو شاید وہ بطلیموس کے مؤقف کو حرفِ آخر نہ تصور کرتے اور کوپرنیکس سے بہت پہلے یہ ثابت ہو جاتا کہ آسمان نہیں بلکہ زمین متحرک ہے۔ ایک فلسفی کے طرزِ فکر پر غور و فکر کر کے اس نے اس مسئلہ سے متعلق شک کا دروازہ کھول دیا تھا اور اس عقیدہ کی بنیاد کھوکھلی کر دی تھی جس پر صدیوں سے ماہرینِ علم ہیئت کا ایمان تھا۔

البیرونی نہ تو مسلم فلاسفہ کے طرز کا فلسفی تھا اور نہ متکلمین کے طرز کا۔ پھر بھی ہم اسے فلسفی کہہ سکتے ہیں کیونکہ کائنات کے وجود اور مابعد الطبیعی امور پر اس نے فلسفیانہ بحثیں کی ہیں۔ ابنِ سینا سے اس کا جو سوال و جواب ہوا تھا اس سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ وہ مشائی فلسفے کی روایت کا قائل نہ تھا، عالَم کو قدیم نہیں مانتا تھا اور جزو لاتیجزی کے نظریے کے ماننے والوں پر ارسطو کا جو اعتراض تھا اسے غلط تصور کرتا تھا۔

ارسطو پر اس کا یہ اعتراض بھی تھا کہ آخر وہ کس دلیل سے اس عالم کے وجود سے انکار کرتا ہے جو اس عالم سے جدا ہے جب کہ اس عالم کے امکان کی بہت سی دلیلیں ہیں اور اس کے خلاف جو دلیلیں ہیں انہیں رد کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے وجود کی دلیلیں اس کے عدم کی دلیلوں پر فوقیت رکھتی ہیں۔ تاریخ، جغرافیہ اور ہیئت پر البیرونی کی جو تصنیفات ہیں ان میں بھی سائنسی اور تاریخی مباحث کے ساتھ فلسفۂ علم کائنات اور مابعد الطبیعات پر اس کے خیالات مل جاتے ہیں۔ کتابُ الہند میں جہاں اس نے ہندوؤں کے عقائد و افکار بیان کیے ہیں وہیں اکثر ہمیں ان عقائد و افکار پر تبصرہ کے ساتھ اس کے اپنے مابعد الطبیعی اور فلسفیانہ تصورات اور تشریحات بھی ملتی ہیں۔

آثارِ باقیہ میں زمانۂ تاریخِ انسانی کے ادوار اور قوانینِ قدرت میں یک رنگی اور استحکام سے متعلق اس کی جو بحثیں ہیں ان سے اس کی ژرف نگاہی اور علمی تعمق کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے، اسی کے ساتھ "جہاں وہ قوانینِ قدرت کی مضبوطی کا پورے طور پر معتقد ہے وہاں عالمِ فطرت کی رنگا رنگ کیفیتوں اور پیچیدہ و لا ینحل حالتوں کا خیال بھی اس کے دماغ میں موجود رہتا ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ موجودات میں بسا اوقات ایسی طبیعیی کیفیتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں جو بادیُ النّظر میں ممکنات سے خارج معلوم ہوتی ہیں اور جن کے اسباب و علل کے معلوم کرنے سے اکثر انسانی عقل عاجز رہ جاتی ہے۔”

البیرونی مسلمان تھا، اور اس کی بعض تصنیفات میں قرآنی آیات بطور شاہدِ حق اور دلیلِ قطعی کے مباحثِ متعلقہ کے ساتھ اس طرح پرو دی گئی ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات انہی مواقع کے لیے نازل کی گئی تھیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کا قرآن اور دیگر علوم نقلی کا مطالعہ گہرا تھا اور قرآن فہمی میں بھی وہ کسی سے کم نہ تھا۔

البیرونی ان مدعیانِ علم و حکمت میں سے نہ تھا جنہیں مذہب کو عقلِ انسانی کا پابند رکھنے پر اصرار تھا۔ وہ عقلِ انسانی کی حدود سے خوب واقف تھا، تاریخِ اسلام میں جب عقل و مذہب کا معرکہ شروع ہوا تھا تو مسائلِ الٰہی کے سلسلے میں کیسی کیسی موشگافیاں ہوئی تھیں اور یہ سب اس کی نظر میں تھیں لیکن وہ خود اپنی خداداد ذہانت سے کام لے کر اس نتیجہ پر پہونچا تھا کہ مذہبِ الٰہی عقل کا مخالف نہیں ہوسکتا البتہ وہ اس کا قائل نہ تھا کہ عقل انسانی ہمیشہ صراطِ مستقیم پر رہتی ہے۔ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ عقلِ انسانی کو امورِ الٰہی کے تابع رہنا چاہیے اور اگر کبھی ایسی نشانیاں نظر آئیں جو ہماری فہم و ادراک کے مطابق نہ ہوں تو ان نشانیوں کا انکار نہ کرنا چاہیے۔ اسی لیے وہ الرّازی جیسے فلاسفہ کی انتہا پسندانہ روشن خیالی اور بے روک تعقل پسندی کا مخالف ہے۔ اسی طرح وہ ان لوگوں کا بھی مخالف ہے جو محض جہالت، تعصب اور تنگ نظری کی بنا پر کوئی نہ کوئی مذہبی پہلو نکال کر سائنس اور فلسفہ کی مخالفت کرتے ہیں۔

البیرونی مؤرخ بھی تھا۔ وہ ایک ایسا مؤرخ تھا جو تہذیبوں اور ان کے تاسیسات کا مطالعہ کرتا تھا، اور اس سلسلے میں اس کا منہاجِ تحقیق زمانۂ حال کے اصولِ تحقیق سے کسی طرح کمتر نہیں کہا جا سکتا۔ وہ اپنے زمانے کی فنِ تاریخ نگاری کا مقلد نہ تھا، وہ مجتہد تھا۔ اختراعی و تخلیقی صلاحیت کے وافر ذخیرے کے ساتھ اس کا مطالعہ غیر معمولی طور پر وسیع اور گہرا تھا۔ ایک ایسے عہد میں جب کتابیں بڑی تعداد میں چھپتی نہ تھیں، علمی جرائد کا وجود نہ تھا اور جو معلومات دستیاب تھیں انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں بڑی دشواریاں تھیں ہمیں جب البیرونی جیسا متبحر عالم ملتا ہے جو مختلف علوم میں مجتہدانہ نظر اور منہاجاتِ تحقیق میں منفرد فکر کا حامل تھا تو ہم سوچنے لگتے ہیں کہ شاید عظیم شخصیت کا نظریہ صحیح ہو، یعنی یہ کہ ہر عہد میں ایک ایسی استثنائی شخصیت ضرور ہوتی ہے جو اپنی غیر معمولی ذہانت اور مضبوط قوّتِ ارادی سے حالات کا رخ موڑ دیتی ہے اور اپنے عہد پر اپنی شخصیت کا دوامی نقش چھوڑ جاتی ہے۔ علمی دنیا میں بھی ایسی شخصیتوں کی مثالیں ملتی ہیں اور اس لحاظ سے البیرونی بلا شبہ نابغۂ روزگار تھا۔

ہمارا یہ نابغۂ روزگار کئی زبانیں جانتا تھا، مثلاً سنعدی اور خوارزمی (جو فارسی کی دو صورتیں تھیں) عربی، عبرانی، سریانی اور سنسکرت۔

(کتاب: البیرونی اور جغرافیۂ عالم، از قلم مولانا ابوالکلام آزاد)

Comments

یہ بھی پڑھیں