The news is by your side.

Advertisement

گائے کا گوشت رکھنے کے جرم میں7افراد پرہجوم کا بدترین تشدد

نئی دہلی : نریندرمودی کی سرکارمیں مسلمان گھروں میں بھی محفوظ نہیں رہے، ریاست بہارمیں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم نے ایک مسلمان شخص کے گھرمیں گھس کرسات افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے انسانیت سوزی کی تمام حدیں عبور کر لیں، ہندو انتہا پسندی کا ایک اور گھناؤنا واقعہ پیش آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی ریاست بہار میں پچاس افراد کے ہجوم نے شہاب الدین پر گائے کا گوشت رکھنے کا الزام لگا کر ان کے گھر پر دھاوا بول دیا اورسات افراد پر بدترین تشدد کیا جبکہ شہاب الدین کے گھرانے کی مدد کو آنے والوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اندھیرنگری کے مصداق پولیس نے حملہ آوروں کے بجائے تشدد کا نشانہ بننے والوں کو قانون توڑنے کے الزام میں گرفتارکرلیا۔

یاد رہے کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے رہنما ادتیہ ناتھ نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی مذبح خانے بند کرنے کی ہدایت کر دی، جس سے کروڑوں روپے کی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور اس شعبہ سے وابستہ افراد میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے آبائی علاقے گجرات کی اسمبلی نے گائے ذبح کرنے والے کو عمر قید کی سزا دینے کا قانون منظور بھی کرلیا۔


مزید پڑھیں : نئی دہلی :گوشت کھانے کا شبہ،4 افراد پر ہجوم کا بدترین تشدد، ایک شخص ہلاک،3زخمی


واضح رہے کہ مودی سرکار میں مسلمانوں پر ظلم کا یہ واقعہ نہ پہلا ہے اور نہ ہی آخری ہوگا، اس سے قبل بھی گائے کے گوشت کے بہانے ہندوانتہاپسند متعدد مسلمانوں کی جان لے چکے ہیں۔

گذشتہ سال نئی دہلی میں صرف گائے کا گوشت کھانے کی افواہ پر ہندو انتہاپسندوں 50سالہ محمداخلاق اور اسکے 22 سالہ بیٹے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا ، جس کے نتیجے میں محمداخلاق جان کی بازی ہی ہار گیا تھا، جن کے لواحقین انصاف کے حصول کے لئے آج بھی دردرکی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں