الیکشن نتائج سے پہلے سب اندازہ ہوگیا تھا،مصطفیٰ کمال
The news is by your side.

Advertisement

الیکشن نتائج سے پہلے سب اندازہ ہوگیا تھا،مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ الیکشن سے 20 روز پہلے ہی انداز ہوگیا تھا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے، انتخابات سے پہلے معلوم تھاایم کیو ایم پاکستان کو4سیٹیں دی جائیں گی۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ 2018 کے الیکشن سے جمہوریت کو نقصان ہوا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے لئےبہت ہی چیلنجز صورتحال تھی، الیکشن کے نتائج کا ہمیں 20سے25دن پہلے اندازہ ہوگیا تھا، ہمارے پولنگ ایجنٹس کو اس لئے باہر نکال دیاگیاہم ایجنٹ بننے یا کسی کی ہدایت لینے کو تیار نہیں تھے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں کی خواہشات تھیں الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جائیں، تحریک انصاف سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ناممکن تھی، ہم نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے غلط بات کسی کی بھی نہیں مانیں گے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوتا توایم کیو ایم پاکستان کبھی نہیں بنتی، متحدہ کو شاہ فیصل کالونی اور حیدرآباد میں دفاتر کھول کر دیے گئے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی چار نشستوں کے حوالے سے پہلے ہی علم میں تھا، امین الحق اگر  فاروق ستار کی نشست پرالیکشن لڑتے تو ہار جاتے، آئندہ انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے اس سے بھی بدتر نتائج آئیں گے۔

پی ایس پی سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک کام ایک ہی دفعہ ہوسکتا ہے،اب تو کوئی نیا کام ہی ہوگا، ہم اب ایسے پولنگ ایجنٹس کو بیٹھائیں گے جنہیں کوئی باہر نہیں نکال سکے گا، دو دن تک کراچی کے نتائج نہیں آئے مگر فاٹا سے نتیجہ آگیا۔

مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن میں پی ایس پی کو شکست دینے کے لیے اقدامات کیے گئے، فارم 45 میں  پولنگ ایجنٹس کے دستخط موجود ہوتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں