مصطفیٰ کمال نے ’پاک سرزمین‘ پارٹی کے قیام کا اعلان کردیا -
The news is by your side.

Advertisement

مصطفیٰ کمال نے ’پاک سرزمین‘ پارٹی کے قیام کا اعلان کردیا

 کراچی: سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے اپنی پارٹی کے نام کا اعلان کردیا، پارٹی کا نام پاک سرزمین پارٹی رکھا گیا ہے۔

تفصیلات کےمطابق سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال آج 23 مارچ کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کلفٹن میں اعلان کردہ ہال پہنچے جہاں پارٹی کے نام کا اعلان کیاگیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پارٹی پرچم ہی فساد کی جڑ ہے لہذا ہم پاکستان کے پرچم کو ہی اپنا پارٹی پرچم رکھیں گے ، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو پارٹی رجسٹر کرنے کے لئے ایک پرچم کی ضرورت ہے تو اسے ایک پرچم دے دیا جائے گا لیکن ہمارے دفاتراور کارکنان کے ہاتھوں میں پاکستان کاپرچم ہی رہے گا۔

پارٹی کا منشور

انہوں نے کہا کہ انتہائی قابل افراد پارٹی کا منشور تشکیل دے رہے ہیں اورپاک سرزمین پارٹی کا منشور مندرجہ ذیل خطوط پرتیار کیا جائے گا۔

سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے پارٹی کے بنیادی خطوط کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا سب سے پہلا مقصد بنیادی لوکل گورنمنٹ سسٹم کا حصول ہے، تاکہ اختیارکو گلی محلے کی سطح پرمنتقل کیا جاسکے۔

نئے صوبوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں نئے صوبے بنابھی دیے جائیں تو اس کے فوائد فی الحال نہیں ملیں گے اوراس میں قانونی پیچیدگیاں بھی ہیں۔ نئے صوبے تبھی ممکن ہیں جب اس صوبےکے عوام نئے صوبے بنانے چاہیں۔

سابق سٹی ناظم نے کہا کہ پاکستان میں پہلے ایک شخص کو اختیاردیے جاتے ہیں پھراس کی کرپشن کے خلاف اس کے پیچھے نیب لگائی جاتی ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر تقسیم کرکے عام آدمی کو نیب کا کرداردینا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ نیشنل اربن پالیسی کے قیام کو بھی اپنی پارٹی کے مقاصدکا حصہ قراردیااورکہا کہ دنیا کو اربنائزیشن کا سامناہے لیکن پاکستان میں کوئی اسکی بات نہیں کرتا۔

مصطفیٰ کمال کا خطاب

سابق سٹی ناظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جو کہ تین مارچ کے بعد سے مسلسل ان کے ساتھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے جتنے ساتھی ہیں وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہم یہاں اس شہرکراچی میں کسی کی طاقت چھیننے نہیں آئے ہیں، ہم سب کسی نا کسی طورطاقت میں تھے تاہم ہم نے اس طاقت کے ثمرات عوام تک نہ پہنچنے کے سبب اسے لات ماردی۔

انہوں نے دورانِ تقریر اپنے دورنظامت میں اپنی عوامی خدمات کا ذکر پڑھتے ہوئے شعرپڑھا کہ

عشق ٹوٹا تواستخارہ کیا
اورپھرعشق ہی دوبارہ کیا

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اتنے ٹکڑوں میں بنٹ چکے ہیں کہ انہیں سمیٹنا مشکل ہے، انفرا اسٹرکچر برباد ہے ملک کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ فرشتے بھی اس ملک کونہیں چلاسکتے۔

مصطفی کمال کا کہناتھا کہ مقامی سطح پر لوگوں کو فیصلہ سازی میں شریک نہیں کیاجاتا جس کے سبب جب کوئی قومی املاک کو نقصان پہنچاتا ہے تو اس کو کوئی نہیں روکتا۔

وسیم آفتاب کا خطاب

مصطفیٰ کمال سے قبل وسیم آفتاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان کی بکھری ہوئی اکائیوں کو ایک پلیٹ فارم پراکھٹا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم ایک نئی جہت اور ایک نئی صبح کا آغاز کرنے جارہے ہیں، خوف کے ماحول کا خاتمہ کرنے جارہے ہیں۔ وسیم آفتاب کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے نوجوانوں کو ایک نئی امید دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے قافلے میں ہروہ پاکستانی شامل ہوسکتا ہے جو کہ پاکستان کو آگے لے جانا چاہتا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کارواں

مصطفیٰ کمال کے قافلے میں سندھ کے سابق وزیرڈاکٹرصغیراحمد، سندھ اسمبلی کے رکن افتخارعالم اورایم کیوایم تنظیمی کمیٹی کےسابق عہدیداروسیم آفتاب، سابق ممبر رابطہ کمیٹی انیس ایڈوکیٹ اور سابق صوبائی وزیررضا ہارون بھی شامل ہوچکےہیں۔

مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی 3 مارچ 2016 کو دبئی سے تین سال بعد کراچی واپس آئے تھے اوردونوں حضرات نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایم کیو ایم سے علیحدگی اوراپنی الگ جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں