The news is by your side.

Advertisement

نیب میرے سامنے کھڑا ہو اور بتائے کہ مجھ پر کیا الزام ہے، مصطفیٰ کمال

کراچی : کراچی میں سرکاری پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں مصطفی کمال کوریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں، مصطفی کمال نے کہا نیب میرے سامنے کھڑا ہو اور بتائے کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سرکاری پلاٹوں کی غیرقانونی الاٹمنٹ سےمتعلق کیس کی سماعت ہوئی ، پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال پیش ہوئے۔

سماعت میں مصطفی کمال نے عدالت میں کیس کےغلط عنوان اور غلط سرخیوں پر گلہ کیا اور کہا یہ غیر قانونی الاٹمنٹ نہیں تھی، سرخیوں میں غیر قانونی الاٹمنٹ لکھاجارہاہے، ریفرنس میں الاٹمنٹ کاکہیں ذکرہی نہیں، اس سے میری ساکھ متاثر ہورہی ہے۔

جس پر عدالت نے کہا آپ ہمیں درخواست دیں، پھر باقاعدہ حکم نامہ جاری کریں گے جبکہ مصطفی کمال کو ریفرنس کی نقول فراہم کردی گئیں۔

بعد ازاں حتساب عدالت نے سماعت17 اگست تک ملتوی کردی۔

یاد رہے مصطفی کمال نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کررکھی ہے، ریفرنس میں مصطفی کمال سمیت 11ملزمان نامزد ہیں ، ملزمان پر ساحل کے قریب ساڑھے5 ہزار گز زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کاالزام ہے ، ملزمان نے قومی خزانے کو ڈھائی ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا۔

مزید پڑھیں : الزام ثابت ہوجائے تو مجھے چوک پر پھانسی دینا ، مصطفی کمال

سماعت کے بعد پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ریفرنس کےعنوان پر مجھےغیر قانونی الاٹمنٹ کیس میں شامل کیا گیا ، کیس میں کہیں غیر قانونی الاٹمنٹ کا ذکر نہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کہا جاتا ہے کہ میں نے الاٹمنٹ کی ، عدالت میں کہاکہ جوعنوان مجھ سےمنسوب کیا گیا اسے ہٹایا جائے ، الاٹمنٹ 1982 میں ہوئی اور میں 2005 میں مئیر منتخب ہوا ، خبرچل رہی ہے مصطفیٰ کمال غیرقانونی الاٹمنٹ کیس میں پیش ہورہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا میں اب لڑوں گا،جوبھی عدالت مجھےبلائےگی میں جاؤں گا، نیب میرے سامنے کھڑاہو اور بتائے کہ مجھ پر کیا الزام ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں