The news is by your side.

Advertisement

مصطفیٰ کمال نے کراچی میں ساتویں ضلع کا اعلان مسترد کردیا، پی ایس پی کل احتجاج کرے گی

کراچی : سربراہ پی ایس پی مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں ساتواں ضلع بنانے پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھیوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ سندھ کا ایک رکھنا چاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے کراچی میں ساتویں ضلع بنانے کے اعلان کو پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیریندر مودی کشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کررہا ہے اور سندھ حکومت بھی مودی سوچ کی طرح سندھ کو ٹکڑے کررہی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاق سے جب کوئی بات کرے تو کہتے ہیں کہ ہمارا صوبائی معاملہ ہے، کیا کراچی پاکستان کا حصہ نہیں ہے؟ کیا مقبوضہ کشمیر کا حصہ ہے۔

جس ملک کے دفاع کا حلف لیا گیا اس کے ٹکڑے کیے جارہے ہیں، صوبائی خود مختاری کے نام پر صوبوں کو اختیارات ملے ہیں، اٹھارویں ترمیم سے کوئی فرق نہیں پڑا۔

سربراہ پاک سرزمین پارٹی نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جس سے نفرتیں جنم لیں، ایسے نفرت کے بیج کیوں بورہے ہیں کہ 35 سال آپریشن کرنا پڑے، ہم نے یہاں آکر لوگوں کو آپس میں جوڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں کےوزرائےاعلیٰ آمربنےہوئےہیں، اٹھارویں ترمیم میں اختیارات صرف وزیراعلیٰ کوہی ملےہیں۔

این ایف سی میں پیسہ صوبوں کے نام پر دیا جاتا ہے، این ایف سی کا پیسہ صوبوں کو نہیں وزرائے اعلیٰ کو ملے گا، صوبوں کو چاہیے وہ پیسہ عوام تک پہنچائیں، کراچی کو ایک ضلع اور 18 ٹاؤن کی پوزیشن پر واپس لایا جائے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے بلوچ، پنجابی، سندھیوں، پشتونوں کو جوڑا ہے، کیا لاہور، پشاور اور کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ بنے ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کراچی پر قبضہ کرنا چاہتی ہے، پیپلز پارٹی سندھ کارڈ کا استعمال کرنا چاہتی ہے، سندھیوں کو مخاطب کرتا ہوں کہ سندھ کا ایک رکھنا چاہتا ہوں، ہمارے ذہن میں کوئی تعصب نہیں ہے لسانیت نہیں چاہتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں