The news is by your side.

Advertisement

بانی متحدہ کی حمایت پر گورنر کو گرفتار کیا جائے، مصطفیٰ کمال

کراچی: پاک سرزمین پارٹی کے رہنما مصطفیٰ کمال نے قائد ایم کیو ایم اور گورنر سندھ کو ناسور قرار دیتے ہوئے انہیں پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ قرار دے دیا۔

کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ قائد ایم کیو ایم اور گورنر سندھ عشرت العباد پاکستان کے لیے ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس طرح جسم کی نشونما کے لیے پہلے ناسور کا علاج ضروری ہے اسی طرح پاکستان کی ترقی کے لیے بھی ان ناسوروں کا علاج ضروی ہے ورنہ پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے جو کل انٹرویو دیا اس میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی رینجرز، کور کمانڈرز اور ہم ایک صفحہ پر ہیں۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہمارے عسکری ادارے بہترین صلاحیتوں کے حامل ہیں اور انہوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن ضرب عضب کی پوری دنیا میں پذیرائی کی جارہی ہے۔ عشرت العباد کا ان لوگوں کے ساتھ اپنا نام جوڑنے کا مقصد ان کی نیک نامی کے پیچھے اپنے گناہوں کو چھپانا ہے، لیکن ہم انہیں چھپنے نہیں دیں گے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ عشرت العباد نے مجھ پر جو الزامات لگائے ہیں وہ ان کی تحقیق کے لیے جے آئی ٹی بنائیں، میں ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہوں۔انہوں نے الزام لگایا کہ سانحہ 12 مئی میں گورنر کا ہاتھ ملوث ہے جس میں 40 افراد اپنی جانوں سے دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتش زدگی کے ہولناک سانحے کی بھی دوبارہ تحقیقات کی جانی چاہیئں۔ سیکیورٹی اداروں کو اس کے تانے بانے بھی گورنر ہاؤس سے ملیں گے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ عشرت العباد دوہری شہریت کے حامل ہیں اور ان کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے، یعنی انہوں نے ملکہ برطانیہ کی وفاداری کا حلف اٹھایا ہوا ہے۔ ایسا شخص قومی سلامتی کے حساس اجلاسوں میں شریک ہوتا ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پہلے ہم نے ایک اور اب دوسرے سانپ کو بین بجا کر بل سے باہر نکالا جس کے بعد اللہ تعالیٰ بند کمرے کی باتیں گورنز کی زبان پر لے آیا، انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے پاکستان مخالف نعرے لگانے والے شخص کو اپنا محسن تسلیم کیا اس بات پر انہیں گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے وزیر اعظم سمیت متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر عشرت العباد کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے، ان کا برطانوی پاسپورٹ ضبط کر کے قوم کو دکھایا جائے، اور مجھ پر لگائے گئے الزامات کی جے آئی ٹی بنا کر اور میرے خلاف تحقیقات کی جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں