ماہر معاشیات مزمل اسلم نے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ بننے کے اہل نہیں مریم نواز جو کہتی ہیں یہ تو بس وہ حکم پورا کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق ماہر معاشیات اور سابق ترجمان وزرات خزانہ مزمل اسلم نے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے کراچی میں تاجروں سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفتاح اسماعیل کو وزیرخزانہ بنا دیا گیا ہے، ان میں یہ اہلیت نہیں ہے۔ مریم نوازجو کہہ دیتی ہیں یہ سب چھوڑ کر اس کی تعمیل میں لگ جاتے ہیں یہ تو بس حکم پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک کا قرض 4 ماہ میں 10 ہزار ارب بڑھا دیا ہے اور اب تک 5 منی بجٹ دیدیے ہیں۔ یہ قرض لینے تو چلےگئے تھے، سعودی عرب گئے، یو اے ای بھی گئے، قرض کے حوالے سے انہوں نے آرمی چیف کو بھی انوالو کر دیا
انہوں نے کہا کہ یہ 2 ماہ سے کہہ رہے ہیں خوردنی تیل سستا ہوگا وہ بھی نہیں ہو رہا۔ پاکستان کی برآمدات گر رہی ہیں۔ جب پاکستان کےلیے چیزیں سستی تھیں تو انہوں نے اپنے گزشتہ دور میں کیوں نہ خریدیں۔
سابق ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ جب مفتاح اسماعیل دباؤ میں ہوتے ہیں تو کچھ بھی بول دیتے ہیں۔ ان کی یادداشت میں بھی مسئلہ آیا ہوا ہے۔ اب یہ کہہ رہے ہیں ڈالر کنٹرول کرلیا ہے، اس سال پاکستان کی گروتھ منفی میں آئے گی۔
مزمل اسلم نے یہ بھی کہا کہ میں فکس ٹیکس کے حق میں نہیں ہوں، جس کی جتنی آمدن ہو اس پر اتنا ہی ٹیکس ہونا چاہیے۔
سابق ترجمان وزارت خزانہ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ بھی کہا کہ امپورٹڈ حکومت پر اپنے ہی لوگ اعتماد نہیں کر رہے تو باقی دنیا کیا کرےگی۔
ان کا کہنا تھا کہ مارچ کے بعد سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی عدم دلچسپی ہے۔
امپورٹڈ حکومت ہر اپنے ہی لوگ اعتماد نہیں کر رہی تو باقی دنیا کیا کرے گی۰ مارچ کے بعد سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بیرون ملک پاکستانیوں کی عدم دلچسپی pic.twitter.com/n6jdrzBQl4
— Muzzammil Aslam (@MuzzammilAslam3) August 6, 2022
واضح رہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آج کراچی میں چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ہمیں دنیا سے قرض لینے میں مشکل ہورہی ہے اب مانگتے ہوئے شرم بھی آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا سے قرض لینے میں مشکل ہورہی ،اب مانگتے ہوئے شرم بھی آتی ہے، مفتاح اسماعیل
انہوں نے کہا تھا کہ ڈالر سپلائی اور ڈیمانڈ پر اوپر نیچے جاتا ہے۔ ہمیں دنیا سے چیزیں چاہئیں لیکن برآمد کے لیے کوئی چیز نہیں۔