The news is by your side.

Advertisement

میانمار فوج ڈیڑھ سال میں ہزاروں شہری قتل کرچکی

میانمار میں انسانی حقوق کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ سال فروری میں فوجی بغاوت کے بعد فوج اب تک 2 ہزار سے زائد لوگوں کو قتل کرچکی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار میں انسانی حقوق کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال فروری میں ملک فوجی بغاوت ہونے کے بعد مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن میں فوج اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ شمال مغرب میں زاگائین کے خطے سے ہلاکتوں کی مسلسل اطلاعات آرہی ہیں جہاں فوج اور جمہوریت نوازوں میں جھڑپیں جاری ہیں ساتھ ہی تنظیم نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ فوج دیہات میں حملوں کے لیے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کررہی ہے اور مقامی رہائشیوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

مذکورہ تنظیم کا یہ بھی کہنا تھا کہ 6 جون کو فوج نے ان شہریوں کو حملہ کرکے 11 افراد کو قتل کیا جو بدھ مت کی عمارت میں پناہ لیے ہوئے تھے اور فوجیوں نے ان میں سے کچھ لوگوں کو پشت پر گولیاں ماریں۔

معاونتی تنظیم برائے سیاسی اسیران نے یہ بھی کہا ہے کہ بدھ تک فوج کے بہیمانہ تشدد اور بربریت سے مجموعی طورپر 2 ہزار سات افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ میانمار فوج کی بربریت کے خلاف چند ماہ قبل اقوام متحدہ نے طگئ ایک چشم کشا رپورٹ جاری کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار فوج نے شہریوں کے ساتھ کیا کیا؟

اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ میانمار فوج نے شہریوں پر بہیمانہ ظلم کیا، انھیں پکڑ کر سروں میں گولیاں ماری گئیں اور زندہ جلایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں