میانمار میں آنے والے خوفناک زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 2886 تک پہنچ گئی، جبکہ ساڑھے 4 ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، 400 سے زائد تاحال لاپتہ ہیں، تباہ شدہ انفرا اسٹرکچر اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث ریسکیو کے عمل میں مشکلات سامنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق میانمار میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے، جہاں جمعہ کو آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے کے بعد ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
زلزلے کے مرکز کے قریب منڈالے شہر میں ریسکیو عملے نے ایک خاتون کو اپنے اپارٹمنٹ بلاک کے ملبے سے زندہ نکال لیا ہے، جہاں وہ 24 گھنٹے سے زائد عرصے تک پھنسی رہی۔
زلزلے کے مرکز سے تقریباً 1,000 کلومیٹر (620 میل) دور پڑوسی تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں کم از کم 11 مزید اموات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
زلزلے سے میانمار کے مختلف علاقوں میں کثیر المنزلہ عمارتیں، پل اور سڑکیں تباہ ہو کر ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دور دراز علاقوں میں خراب مواصلات کی وجہ سے تباہی کا حقیقی پیمانہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے ادارے (او سی ایچ اے) کا کہنا ہے کہ وسطی اور شمال مغربی میانمار کے اسپتال زلزلے کے دوران زخمی ہونے والے لوگوں کی آمد سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور بین الاقوامی تنظیمیں فیلڈ اسپتالوں کے ساتھ ساتھ موبائل سرجیکل اور میڈیکل ٹیمیں تعینات کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔
ویڈیو: میانمار میں ہولناک زلزلے کے بعد خاتون اور مرد کو زندہ بچا لیا گیا
واضح رہے کہ یہ گزشتہ کئی دہائیوں میں میانمار میں آنے والا تباہ کن اور شدید ترین زلزلہ ہے، یہ زلزلہ ملک کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈالے میں آیا اور اسے سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔