ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کا صدر بننے کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے والی اٹارنی جنرل جیسیکا ایبر اپنے گھر پر مردہ پائی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکا کی ریاست ورجینیا کے مشرقی ضلع کی سابق اٹارنی جنرل جیسیکا ایبر اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 43 سالہ جیسیکا جنہوں نے رواں برس جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان کی موت کے حوالے سے تفتیش جاری ہے۔ ورجینیا کے چیف میڈیکل ایگزامینر کا دفتر موت کی وجہ اور طریقہ کا تعین کرے گا۔
واضح رہے کہ جیسیکا ایبر کو اگست 2021 میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن نے ورجینیا کے مشرقی ضلع کے لیے امریکا کے اٹارنی کے طور پر نامزد کیا تھا۔
انہوں نے سنہ 2009 میں ایک اسسٹنٹ امریکی اٹارنی کے طور پر ورجینیا کے مشرقی ضلع میں اپنی خدمات کا آغاز کیا، وہ مالی فراڈ، عوامی بدعنوانی، پرتشدد جرائم، اور بچوں کے استحصال کے مقدمات دیکھتی تھیں۔
سنہ 2015 سے 2016 تک، جیسیکا ابر نے محکمہ انصاف کے کریمنل ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کے مشیر کے طور پر تفصیلی اسائنمنٹ پر کام کیا۔ اس کے بعد سنہ 2016 سے 2016 سے امریکی اٹارنی بننے تک انہوں نے فوجداری ڈویژن کی ڈپٹی چیف کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
تاہم رواں برس جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری بار صدر بننے کے بعد جیسیکا نے مزید کام کرنے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔