The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں پراسرار چٹانیں نکل آئیں

ریاض: سعودی عرب کی سرزمین ایسے اسرار سے بھری ہوئی ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئے، ماہرین آثار قدیمہ جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے سعودی عرب کے قدیم صحرا میں قدیم راز افشا کر رہے ہیں۔

اس سلسلے میں عرب نیوز میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ فضائی فوٹو گرافی اور مصنوعی سیاروں کی مدد سے عرب اور اس کے آس پاس کے علاقے میں قدیم رازوں سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے۔

ان علاقوں میں صحرائی پتنگوں کے نام سے کچھ چٹانیں مشہور ہیں، ان چٹانوں کی ساخت اتنی متاثر کن ہے کہ ماہرین انھیں دیکھ کر حیران ہیں، ان چٹانوں کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں ان میں چٹیل پتھروں کی لمبی دیواروں پر عجیب شبیہیں بنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ جنگ عظیم اوّل کا زمانہ تھا، جب چند پائلٹس شمالی عرب کے صحراؤں سے گزرے، انھوں نے یہاں پتنگوں سے مشابہت رکھنے والی عجیب شبیہیں دیکھیں، کچھ محققین یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جانوروں کے ریوڑ کے لیے لگائے جانے والے پھندے ہیں جب کہ دیگر کے خیال میں یہ مقبرے یا قبرستان ہو سکتے ہیں۔

اس کے بعد اس علاقے کے فضائی سروے بھی کیے گئے، جن میں یہ خیال قائم کیا گیا کہ شاید ہزاروں سال قبل جانوروں کے ساتھ رہنے والے قبائل نے انھیں تعمیر کیا ہو اور ان پر یہ شکلیں بنائی ہوں۔

برطانوی محققین کے مطابق سعودی عرب میں خیبر کے علاقے کے ارد گرد پھیلے لاوے کے آس پاس اندازے کے مطابق 917 پتنگیں ہیں جو مختلف شکلوں اور سائز میں ہیں اور یہ پانچویں اور ساتویں صدی سے تعلق رکھتی ہیں، ان میں دروازوں کی شکل میں ہیں، کچھ تکون، پتنگوں، بیل کی آنکھوں اور کچھ تالے کے سوراخوں کی شکل میں ہیں۔

سعودی عرب کی کاروباری شخصیت اور پائلٹ کیپٹن عبد العزیز الدخیل نے بھی 2015 میں اپنے 2 سیٹوں والے جہاز کے کاک پٹ سے ان کی تصویر کشی کی تھی، الدخیل نے ان خاص مقامات کی نشان دہی کرنے میں لمبے عرصے تک پرواز کی۔آرکیالوجسٹس کی ایک ٹیم نے اس علاقے کی چٹانوں کی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے منظر کشی بھی کی ہے۔

اگرچہ یہ چٹانیں برسوں سے مشہور ہیں، تاہم اب سیٹلائٹ شبیہوں اور فضائی فوٹو گرافی کی مدد سے سعودی عوام کو اس تاریخی تہذیبی کہانی سے روشناس کرایا جا رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں