The news is by your side.

Advertisement

استنبول کا وہ مندر جہاں سے کوئی زندہ واپس نہیں آیا، لیکن کیوں؟

استنبول : ترکی کے ایک علاقے میں ایک ایسا قدیم ترین مندر بھی قائم ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہاں جانے والا کوئی بھی شخص زندہ نہیں رہا۔

اس سلسلے میں مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ترکی کے اس قدیم مندر میں اس قدر اندھیرا ہے کہ کچھ بھی دیکھنا ناممکن ہے، لوگ اس مندر کو دوزخ کا دروازہ بھی کہتے ہیں۔

حال میں ہی صوفیہ میوزیم کو مسجد میں تبدیل کرنے کی وجہ سے ترکی عالمی کی شہ سرخیوں میں تھا، یہ ملک اکثر دوسری بہت ساری وجوہات کی بناء پر بھی زیر بحث رہتا ہے۔

ان میں سے ایک ترکی کا ایک مندر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں جو بھی جاتا ہے فوری طور پر مرجاتا ہے۔ قدیم شہر ہیراپولس میں تعمیر کردہ اس ہیکل کو کا راز صرف دو سال قبل دنیا کے سامنے آیا ہے۔

Turkey's mysterious 'portal to the underworld' - BBC Travel

ایک زمانے میں ترکی کا ہیراپولیس شہر ان لوگوں کی توجہ کا مرکز تھا جو ایڈونچر پسند تھے، غیر ملکی اور مقامی سیاحوں کا ایک گروپ وہاں آتا اور ایک خاص مندر میں جانے کی ہمت اور کوشش کرتا۔ جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جو بھی اس کے سائے کو چھوتا ہے اسے موت آ جاتی ہے۔

کہا جاتا تھا کہ اس پراسرار مندر کے قریب جانے والے انسان ہی نہیں بلکہ جانور اور پرندے بھی مرجاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس مندر کا معمہ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔

بعد ازاں اسے پلوٹو کا مندر یعنی موت کے دیوتا کا مندر کہا جانے لگا، کئی صدیوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ موت کے خدا کی زہریلی سانس کی وجہ سے جو لوگ ہیکل میں جاتے ہیں یا اس کے آس پاس جاتے ہیں لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں۔

مسلسل اموات کی وجہ سے آس پاس کے لوگوں نے وہاں جانا چھوڑ دیا۔ اگرچہ سیاحوں نے وہاں جانے کی اکثر کوشش کی ہے لیکن انہیں مقامی لوگوں نے روک لیا۔

یہاں تک کہ اگر کچھ سیاح یا ریسرچر مندر کے اسرار کا پتہ کرنے کے لئے اندر جانے کی کوشش کرتے تو مقامی لوگ انہیں ایک پنجرے میں قید پرندہ دیتے تاکہ وہ اس کی موت اپنی آنکھوں سے مندر کے احاطے میں دیکھ سکیں اور ایسا ہی ہوتا مندر کے صحن میں قدم رکھتے ہی پرندہ چند ہی منٹوں میں دم توڑ دیتا۔

یہ خوفناک منظر دیکھتے ہی اندر جانے کی خواہش رکھنے والے بھی اپنا تجسس ختم کرکے واپس چلے جاتے، وقت کے ساتھ ساتھ مندر کی پراسراریت اور خوف بڑھتا چلا گیا۔

ہیراپولیس شہر ایک قدیم رومن شہر ہے جو مرکز میں واقع ہے۔ اس چھوٹی سی جگہ میں بہت تنوع دیکھنے کو ملتا ہے، یہاں بنائے گئے گرم پانی کے چشمے بھی خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

یہ چشمے کیلشیئم سے بھر پور ہوتے ہیں جن سے ہر وقت پانی کے بلبلے اٹھتے رہتے ہیں، اسی سبب یہ شہر دوسری صدی میں ہی تھرمل اسپا کے طور پر مشہور تھا۔

ہسٹری ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق دور دراز سے لوگ اپنی بیماریوں کے علاج کے لئے اس شہر میں آتے تھے۔ خاص طور پر جوڑ اور جلد سے متعلق بیماریوں کو دور کرنے میں یہ چشمے بہت مشہور تھے۔

رپورٹ کے مطابق اس دور میں اس شہر میں ایک تھیٹر بنایا گیا تھا جس میں لگ بھگ پندرہ ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اس شہر کی شہرت کی ایک اور وجہ بھی تھی کہ یہاں پلوٹو مندر قائم تھا۔

رومن داستانوں کے مطابق پلوٹو زمین کا بادشاہ تھا اس مندر کی تعمیر کس نے کی اس کے بارے میں ابھی تک کوئی خاص معلومات نہیں ہیں لیکن یہ بات یقینی ہے کہ یہ مندر لوگوں کے لئے مہلک تھا۔

پہلی صدی قبل مسیح میں یونانی اسکالر اسٹربو نے اس ہیکل کے قریب جانے کی کوشش کی لیکن وہ دور ہی سے لوٹ آئے، انہوں نے لکھا ہے کہ ہیکل کے اندر اتنا دھواں ہے کہ اسے اندر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔

فروری2018 میں محققین پر یہ انکشاف ہوا کہ پراسرار مندر میں دھواں کیوں ہے؟ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ مندر کے نیچے غار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کی ایک بڑی مقدار موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی شہر کے قریب گرم پانی کے چشمے کے اندر سے دوسری مختلف قسم کی زہریلی گیسیں نکل رہی ہیں۔

عام طور پر کاربن ڈائی آکسائیڈ اتنی خطرناک نہیں ہے لیکن جب تک اس کی فیصد متوازن ہے۔ صرف 10 فیصد کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس ہی 30 منٹ کے اندر کسی شخص کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے۔

ہماری فضا میں یہ گیس 0.039 فیصد تک ہے، ہیکل کے احاطے میں اس کی مقدار91 فیصد ہے جو کہ بے حد مہلک ہے، یہ گیس آکسیجن سے ڈیڑھ گنا زیادہ بھاری ہے۔

اس کی وجہ سے یہ زمین پہ نیچے رہتی ہے اور مندر کے اندر دھواں کا گہرا سایہ ہے، اس زہریلی گیس کی وجہ سے ہی یہاں آنے والے لوگ دم توڑ جاتے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں