The news is by your side.

Advertisement

این جی مَجُمدار کا تذکرہ جنھیں سندھ کے علاقے جوہی میں گولی مار دی گئی تھی

سندھ میں ہزاروں سال قدیم تہذیب اور آثار کی دریافت کے حوالے سے این جی مَجُمدار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ متحدہ ہندوستان کے اس ماہرِ آثارِ قدیمہ کو 1938ء میں آج ہی کے دن ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے قریب پہاڑی سلسلے میں قتل کردیا گیا تھا۔

وہ 1897ء کو جیسور، بنگال میں پیدا ہوئے۔ این جی مَجُمدار کا پورا نام نینی گوپال مجمدار تھا۔ انھوں نے 1920ء میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے ایم کیا اور فرسٹ کلاس پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔

این جی مجمدار کی وجہِ شہرت اُس وقت کے صوبہ سندھ میں قبلِ مسیح اور لوہے و تانبے کے زمانے کے 62 آثارِ قدیمہ کی دریافت اور ان مقامات سے متعلق تحقیقی کتاب ایکسپلوریشنس اِن سندھ ہے۔

انھیں 1929ء میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے سینٹرل سرکل میں تقرری کے بعد اسی سال کلکتہ میں اسٹنٹ سپریٹنڈنٹ مقرر کردیا گیا۔ انھوں‌ نے کئی سال ہندوستان کے قدیم مقامات اور تہذیبی آثار کی دریافت اور ان پر تحقیق کے لیے اپنی ٹیم کے ساتھ کام کیا۔ انھوں نے اپنی قابلیت کے ساتھ محنت و لگن سے اپنے محکمے میں اپنی جگہ بنائی۔ اسی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے این جی مجمدار کو 1938ء میں سندھ میں قبل از تاریخ دورانیے کے سروے کا کام سونپا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے موہن جودڑو میں کھدائی اور تلاش و تحقیق کے کام میں‌ سَر جان مارشل کی بھی مدد کی۔

این جی مجمدار نے سندھ میں مختلف مقامات پر کئی تاریخی آثار دریافت کیے تھے۔اس ماہرِ‌ آثارِ قدیمہ نے پرانے دور کے مختلف ہیروں یا سونے وغیرہ سے بنے ہوئے ہتھیاروں پر لکھے گئے اپنے مقالے پر گریفتھ یادگاری انعام بھی حاصل کیا تھا۔

11 نومبر 1938ء کو جوہی میں ان کے کیمپ پر ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے حملہ کرکے این جی مجمدار کو گولی مار دی تھی۔ اس زمانے میں‌ عام لوگوں کے ذہن میں تصور تھا کہ ایسے مقامات پر خزانہ مدفون ہوتا ہے اور اس زمین میں ان کے آبا و اجداد دفن ہیں جن کی باقیات کو ماہرینِ آثار کھود کر نکال لیتے ہیں، اور اس طرح ان کی بے حرمتی ہوتی ہے جب کہ زمین سے خزانہ اور قیمتی اشیا بھی برآمد ہوتی ہیں جنھیں یہ لوگ چرا لیتے ہیں۔

ایکسپلوریشنس ان سندھ این جی مجمدار کی انگریزی زبان میں تحریر کردہ وہ کتاب ہے جو سندھ کے کئی قدیم مقامات سے واقف کراتی اور اس میں‌ تفصیلی تحقیقی بحث شامل ہے۔ اس کتاب میں کاہو جو دڑو، لوہم جو دڑو، چانہو جو دڑو، آمری، واہی پاندھی اور دیگر مقامات اور دریافت کیے گئے ٹیلوں اور اشیا سے متعلق تفصیل سے بات کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں