The news is by your side.

Advertisement

ن لیگ نے مہنگے ایل این جی معاہدے کیے، ہم اس کے پابند ہیں: عمر ایوب

اسلام آباد: وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے دور میں مہنگے ایل این جی معاہدے کیے، جس کی پابندی ہمیں کرنی پڑ رہی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق عمر ایوب نے ٹویٹر کے ذریعے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ سال2019 کے لیے ایل این جی معاہدے ن لیگ دور میں ہوئے، ان معاہدوں میں ایل این جی کی ایکس شپ قیمت 8 ڈالر 60 سینٹس پڑی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری 75 فی صد خرید ان ہی معاہدوں کے تحت ہوتی ہے، یہ معاہدے انتہائی مہنگے ہیں، ن لیگ اس کی ذمہ دار ہے، اب ایل این جی کی قیمت 4 ڈالر سے بھی کم ہو گئی ہے، جب کہ ن لیگ نے 8 ڈالر 60 سینٹس میں معاہدے کیے، ہم مہنگے معاہدوں کے پابند ہیں، جس کی وجہ سے مزید خریداری نہیں کر سکتے۔

انھوں نے کہا کہ آیندہ 15 سال ایل این جی کی مد میں 10 ارب ڈالر زائد ادا کرنا پڑیں گے، یہ سب ن لیگ کے آر ایل این جی معاہدوں کے باعث ہو رہا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت نے ایل این جی معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان گیس پورٹ کمپنی کا کا کنٹریکٹ بھی منسوخ کیا تھا جس کا کیس عدالت میں چل رہا ہے، کمپنی کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت کمپنی کو ڈھائی لاکھ ڈالر یومیہ، 90 ملین ڈالر سالانہ کرایہ ادا کر رہی ہے، کمپنی پر پہلے بھی معاہدے کی تکمیل میں تاخیر پر 41 ملین ڈالر جرمانہ کیا گیا تھا، تاہم سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جرمانے کی رقم ایک ملین ڈالر کر دی تھی۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ ن کے سابق دور حکومت میں اس وقت کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطر کے ساتھ ایل این جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ سابق وزیر پر الزام ہے کہ انھوں نے ایل این جی کی درآمد اور تقسیم کا 220 ارب روپے کا ٹھیکا دیا جس میں وہ خود حصہ دار ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں