site
stats
پاکستان

مشعال کے قتل کے خلاف قومی اسمبلی میں مذمتی قرارداد منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مردان میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم مشعال خان کے قتل کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر نے مشعال خان قتل کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کا متن اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے تیار کیا تھا۔

پیش کی گئی قرارداد میں توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو روکنے اور مشعال خان کے قتل میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

قرارداد میں وفاقی اور صوبائی حکومت سے واقعہ کے ذمہ داران اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یاد رہے کہ 13 اپریل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے طالب علم مشعال خان کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

مشعال پر توہین رسالت کا الزام لگایا گیا تاہم گزشتہ روز انسپکٹر جنرل خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے بتایا کہ مشعال کے خلاف توہین رسالت سے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے۔

مزید پڑھیں: توہین مذہب کا الزام عائد کرنے والوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، امام کعبہ

بعد ازاں گزشتہ روز کیس کے مرکزی ملزم وجاہت نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے واقعے کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی پر ڈال دی تھی۔ ملزم کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کے لیے جامعہ کی انتظامیہ نے کہا تھا۔

ملزم کے مطابق انتظامیہ نے اسے کہا کہ مشعال اور ساتھیوں نے توہین رسالت کی ہے جس پر ملزم نے یونیورسٹی انتظامیہ کے کہنے پر طالب علموں کے سامنے مشعال اور ساتھیوں کے خلاف تقریر کی، تقریر میں کہا کہ ہم نے مشعال، عبداللہ اور زبیر کو توہین کرتے سنا ہے۔

قومی اسمبلی میں وزرا کی غیر حاضری

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ وزرا کی غیر حاضری پر برس پڑے اور کہا کہ وزیر اعظم نے جمہوریت اور آمریت میں فرق ختم کردیا ہے۔ جمہوریت میں فیصلے پارلیمنٹ میں کیے جاتے ہیں اور پارلیمنٹ میں کوئی آتا ہی نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے رویے سے خطرناک پیغام جا رہا ہے اور فیصلے پارلیمنٹ سے باہر بیٹھ کر کیے جا رہے ہیں۔

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ نواز شریف مکہ، مدینہ اور لندن میں ہمیں کہتے تھے جمہوری نظام مضبوط کرنا ہے۔ آج وزیر ایوان میں کیوں آئیں جب وزیر اعظم خود نہیں آتے۔ کلبھوشن یادیو، افغان بارڈر اور مشعال خان قتل جیسے مسائل پر پارلیمنٹ میں کوئی بات نہیں کی جا رہی۔

لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر بھی خورشید شاہ نے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ بغیر آڈٹ سرکولر ڈیٹ کی مد میں 480 ارب ادا کیے جانے کے باوجود آج بھی سرکلر ڈیٹ 385 ارب روپے ہے۔

اجلاس میں لاپتہ افراد سے متعلق کوئی جواب نہ ملنے پر پیپلز پارٹی کے واک آؤٹ اور شاہدہ رحمانی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کے بعد حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی اور اجلاس کل صبح ساڑھے دس بجے تک کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top