The news is by your side.

Advertisement

‘نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا نیا نظام وضع کر دیا’

چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کانیانظام وضع کیا ہے جس میں ٹیم انویسٹی گیشن افسران،لیگل کنسلٹنٹ،مالیاتی ماہرپرمشتمل ہوتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نیب ہیڈکوارٹرز میں چیئرمین جسٹس (ر)جاویداقبال کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں میں چیئرمین نے کہا کہ نیب زیروکرپشن سوفیصدترقی پربھرپوریقین رکھتاہے،نیب بدعنوانی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئےپرعزم ہے۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نئےعزم واستقلال کیساتھ بدعنوانی کوجڑ سےاکھاڑ پھینکنےکیلئےپرعزم ہیں، نیب افسران بدعنوانی کےخاتمہ کوقومی فرض سمجھ کراداکررہےہیں،نیب ملک کوکرپشن فری بنانےکےمشن کی تکمیل کیلئے بھرپورمحنت کررہاہے۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ افسران محنت، عزم، شفافیت اورمیرٹ پر فرائض انجام دےرہےہیں، نیب کی آگاہی مہم کو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل،پلڈاٹ جیسےاداروں نےسراہاہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کانیانظام وضع کیا ہے جس میں ٹیم انویسٹی گیشن افسران،لیگل کنسلٹنٹ،مالیاتی ماہرپرمشتمل ہوتی ہے، فرانزک لیبارٹری قیام سےانکوائریوں،انویسٹی گیشن کےمعیارمیں بہتری آ ئی ہے، ڈیجیٹل فرانزک،سوالیہ دستاویزات،فنگرپرنٹ تجزیہ کی سہولت ہے۔

چیئرمین کے مطابق سی پیک منصوبوں کی نگرانی کیلئےچین سےمفاہمت کی یادداشت دستخط کئےہیں جب کہ بدعنوانی سے آگاہ کرنےکیلئے ہائرایجوکیشن کمیشن سےمفاہمتی یادداشت پردستخط کئے، پاکستان سارک اینٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہےجونیب کی کارکردگی کااعتراف ہے۔

جاویداقبال کا کہنا تھا کہ نیب نےلوٹےگئے 466 ارب وصول کرکےقومی خزانہ میں جمع کرائےہیں، نیب کےمقدمات میں سزاکی شرح86.8 فیصدہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں