ایل این جی اسکینڈل، نیب نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو 8 فروری کو طلب کرلیا
The news is by your side.

Advertisement

ایل این جی اسکینڈل، نیب نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو 8 فروری کو طلب کرلیا

راولپنڈی : ایل این جی اسکینڈل میں نیب نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو 8 فروری کو طلب کرلیا، شاہد خاقان کا بطور وزیر بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ان پر فراڈ، دھوکہ بازی، بددیانتی، اختیارات کا غلط استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایل این جی اسکینڈل تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ، سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کوطلب کرلیاگیا ، طلبی کا نوٹس نیب راولپنڈی کی جانب سے جاری کیاگیا۔

نوٹس میں شاہدخاقان عباسی کو نیب راولپنڈی میں 8 فروری کو پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ، سابق وزیراعظم شاہد خاقان کا بطور وزیر بیان ریکارڈ کیا جائےگا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر فراڈ، دھوکہ بازی، بددیانتی، اختیارات کا غلط استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

اس سے قبل 12 جنوری کو ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل قومی احتساب بیورو (نیب) کے سامنے پیش ہوئے تھے، جن سے ڈیڑھ گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں : ایل این جی اسکینڈل: نیب کی سابق وزیرِ خزانہ سے ڈیڑھ گھنٹے پوچھ گچھ

نیب نے مفتاح اسماعیل کو 30 سوالات پر مشتمل سوال نامہ  دیا، ہدایت کی کہ سوالات کے جواب ایک ہفتے میں دیے جائیں جبکہ  کہا ضرورت پڑنے پر مفتاح اسماعیل کو دوبارہ بھی بلایا جائے گا۔

یاد رہے اکتوبر 2018 میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھولنے اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

نیب کی جانب سے وزارت پٹرولیم کو خط لکھ گیا تھا، جس میں متعلقہ وزارتوں سے ریکارڈ طلب کیا تھا۔

خیال رہے جون 2018  میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی۔

مزید پڑھیں : سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کیخلاف ایل این جی اسکینڈل کیس دوبارہ کھل گیا

ترجمان نیب کے مطابق ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لئے ٹھیکے دینے، مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

واضح رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں سابق وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطرکے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پردستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہرسال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں