The news is by your side.

Advertisement

نیب ٹیم کا شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے گھر پر چھاپہ

لاہور: اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے لئے نیب ٹیم نے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

تفصیلات کے مطابق اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں نیب میں طلبی کا نوٹس ہوا میں اڑا دیا، نیب میں عدم پیشی پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کے لیے نیب ٹیم شہبازشریف کی رہائش گاہ 96 ایچ پہنچی۔

اس دوران پولیس کی بھاری نفری بھی شہبازشریف کے گھر کے باہر موجود تھی، نیب ٹیم گھر میں داخل ہوئی مگر شہباز شریف وہاں موجود نہیں تھے۔

شہباز شریف کی رائیونڈ میں موجودگی کی اطلاع پر نیب ٹیم نے جاتی امرا جانے کا فیصلہ کیا اور روانگی کے کچھ دیر بعد ٹیموں کو واپس بلا لیا گیا۔

شہبازشریف کی گرفتاری کےحوالےسےڈی جی نیب کی سربراہی میں اہم اجلاس ہوا جس میں ماڈل ٹاون سےگرفتاری نہ ہونےپر جاتی امرا چھاپہ مؤخر کر دیا گیا۔

شہبازشریف کی گرفتاری کی صورت میں نیب ہیڈکوارٹرزمیں تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے تھے، نیب ہیڈکوارٹرزمیں حوالات کو ڈس انفیکٹ کردیاگیا تھا اور نیب کےاعلیٰ افسران شہبازشریف سے پوچھ گچھ کیلئے موجود تھے۔

یاد رہے شہباز شریف نے پیش ہونے کے بجائے حسب سابق نمائندے کے ذریعے جواب بھجوا دیا،شہباز شریف کے نمائندہ محمد فیصل نے تفصیلی جواب جمع کروایا، جواب میں کہا گیا انہتر سال عمر ہے اور کینسر کا مریض ہوں، کورونا خدشات کے باعث پیش نہیں ہوسکتا، ویڈیو لنک، اسکائپ کے ذریعے پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔

نیب حکام نے جواب کا جائزہ لے کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا۔

دوسری جانب حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے امدن سے زائد اثاثہ اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی ، جس کی آج سماعت نہ ہوسکی،جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ کل سماعت کرے گا۔

شہباز شریف نے درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ 1972 میں انہوں نے بطور تاجر کام شروع کیا کیا وہ ایگریکلچر شوگر اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے کاروبار سے منسلک رہے ہیں ا1988 میں عملی سیاست میں قدم رکھا، نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بنایا ہے۔

درخواست میں کہا گیا موجودہ حکومت کے سیاسی اثرورسوخ کی وجہ سے نیب نے انکوائری شروع کر رکھی ہے نیب کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات عمومی نوعیت کے ہیں 2018 میں بھی اسی کیس میں گرفتار کیا گیا کیا تھا دوران حراست میں نے نیب کے ساتھ بھرپور تعاون کیا مگر نیب نے اختیارات کے ناجائز استعمال کا کا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ نیب ایسے کیس اپنے اختیار کا استعمال نہیں کرسکتا جس میں کوئی ثبوت نہ ہو جب سے عملی سیاست میں قدم رکھا ہے اپنے تمام اثاثے گوشواروں میں ظاہر کیے ہیں منی لانڈرنگ کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق نیب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت انکوائری نہیں کر سکتا . اثاثوں کے حوالے سے تمام کاغذات پہلے ہی نیب کے قبضے میں ہیں تاہم نیب کی جانب سے ایک مرتبہ پھر گرفتار کا خدشہ ہے اس لیے عبوری ضمانت منظور کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں