نبیل گبول پیپلزپارٹی کو پیارے ہوگئے ARY NEWS Nabil Gabol
The news is by your side.

Advertisement

نبیل گبول کی بیٹے سمیت پیپلز پارٹی میں‌ دوبارہ واپسی

کراچی: معروف سیاسی رہنما نبیل گبول اور اُن کے صاحبزادے نے بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

تفصیلات کے مطابق نبیل گبول نے بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پیپلزپارٹی میں شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

اس موقع پر سردار نبیل گبول کے صاحبزادے نادر نبیل گبول نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا اور اپنے والد کے ہمراہ سابق صدر آصف علی زرادری کے ساتھ مشترکہ فوٹو کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوئٹر پر شائع کیا۔

نبیل گبول کی گفتگو 

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ ’’شہید بی بی کے قافلے میں دوبارہ لوٹنے پر بہت خوشی ہے، سیاسی فیصلہ بہت سوچ سمجھ کیا ہے، کسی بھی جماعت سے کوئی اختلافات نہیں تاہم لیاری کے عوام کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا‘‘۔

نبیل گبول نے مزید کہا کہ ’’آصف علی زرداری سے ملاقات بہت خوشگوار ماحول میں ہوئی اور خوشی ہے کہ میں واپس اپنے گھر لوٹ کر آگیا ہوں، بلاول بھٹو کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے کیونکہ وہ بی بی شہید کے صاحبزادے ہیں اور وہ لیاری کے عوام کو مسائل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘‘۔

پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لیاری سے منتخب ہو کر سندھ اسمبلی کے سب سے کم عمر ڈپٹی اسپیکر ہونے کا اعزا حاصل کرنے والے نبیل گبول کی سیاست کا محور کراچی کا علاقہ لیاری رہا اور بلوچ سردار ہونے کی وجہ سے لیاری کے لوگوں میں کافی مقبول رہے تاہم بی بی کی شہادت کے بعد وہ 2008 کے انتخابات میں رکن قومی اسمبلی تو ،منتخب ہوگئے لیکن سابق صدر آصف علی زرادری سے فاصلے بڑھتے گئے۔

نبیل گبول کی پیلز پارٹی سے دوری میں اس وقت کے صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرز اور ان کی سرپرست میں چلنے والی لیاری گینگ نے بنیادی کردار ادا کیا یہاں تک کہ نبیل گبول نے دس سالہ رفاقت کو توڑ کر ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور 2013 میں عزیز آباد کے علاقے سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تاہم جلد ہی ایم کیو ایم کو خیر آباد کہہ کر اپنی نشست سے مستعفی ہو گئے۔

ایم کیو ایم سے راہیں جدا کرنے کے بعد وہ میڈیا میں کافی متحرک رہے لیکن ان کے نئی سیاسی سفر کا تعین نہیں ہوسکا اور انفرادی اننگ ہی کھیلتے رہے تاہم گزشتہ برس کے آخر میں ان کا جھکاؤ تحریک انصاف کی جانب محسوس ہونے لگا اور اسلام آباد کے لا ڈاؤن میں عمران خان کی حمایت کر کے ساری رکاوٹیں اور دشواریاں عبور کر کے بنی گالہ پہنچ گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں