The news is by your side.

’’ناگاساکی ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں کا آخری مقام ہونا چاہیے‘‘

آج سے 77 برس قبل ہونے والے ایٹمی حملے کے بعد سے اب تک جاپان کا شہر ناگاساکی تاحال اس کے اثرات کا شکار ہے اور اس کی قیمت آنے والی نسلیں ادا کررہی ہیں۔

جاپان کے شہر ناگاساکی کے میئر نے کہا ہے کہ ان کا شہر ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں کا نشانہ بننے والا آخری مقام ہونا چاہیے۔ انہوں نے ایک کانفرنس میں خطاب کے دوران ایٹمی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا اپنا مطالبہ دہرایا۔

تااُوے تومی ہیسا، نیویارک میں اقوام متحدہ صدر دفتر میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے کے فریقین کی جائزہ کانفرنس میں جمعہ کے روز خطاب کر رہے تھے۔

تااُوے نے کہا کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے ہیباکُشا یعنی ایٹم بم حملوں میں زندہ بچ جانے والے افراد، دنیا کو جوہری تنازعے کی ہولناکیاں یاد دلانے کی کوشش کے طور پر اپنے تجربات کے بارے میں مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بنی نوعِ انسان کو جوہری تنازعے کے خطرات سے محفوظ رکھنے کا واحد راستہ ان ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے جوہری طاقتوں اور دیگر اقوام سے اس ہدف کے حصول کی خاطر کام کرنے کا مطالبہ کیا۔

میئر نے اس امید کا اظہار کیا کہ مذکورہ جائزہ کانفرنس میں جوہری ہتھیاروں کے خاتمے اور عدم پھیلاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں