خواتین کا نیل پالش یا ناخنوں پر مہندی لگانا غیر شرعی عمل ہے، فتویٰ -
The news is by your side.

Advertisement

خواتین کا نیل پالش یا ناخنوں پر مہندی لگانا غیر شرعی عمل ہے، فتویٰ

اترپردیش: بھارت کے مفتیان کرام مشترکہ فتویٰ دیا ہے کہ ناخنوں پر نیل پالش اور مہندی لگانا غیر شرعی عمل ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اترپردیش کے علاقے سہارن پور میں موجود دارالعلوم دیوبند نے خواتین کے نیل پالش اور مہندی استعمال کرنے کے حوالے سے اہم فتویٰ جاری کیا۔

دارالعلوم کی جانب سے جاری ہونے والے فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ ’ ناخنوں پر خوبصورتی کے لیے نیل پالش یا مہندی استعمال کرنے والی خواتین غیر شرعی عمل کررہی ہیں‘۔

مفتی اشعر گورا نے سیمینا کی تقریب کے دوران فتویٰ دیا کہ دینِ اسلام میں ناخنوں پر مہندی یا نیل پالش لگانے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وضو کا پانی ناخنوں تک نہیں پہنچتا اور اسی وجہ سے نماز نہیں ہوتی۔

مزید پڑھیں: خواتین کا آئی بروز بنوانا اور بال کٹوانا حرام ہے، متفقہ فتویٰ جاری

اُن کا کہنا تھا کہ اسلام نے خواتین کو خوبصورتی بڑھانے کے لیے کسی بھی چیز سے نہیں روکا البتہ نماز سے قبل وضو کے دوران نیل پالش ہٹا دینا چاہیے تاکہ وضو ہوجائے اور ناخنوں تک پانی پہنچ سکے۔

دوسری جانب مسلمان خاتون وکیل فرح فیض نے دارالعلوم دیو بند کے فتویٰ کی مخالفت کردی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’دارالعلوم کے مفتیان نے کبھی مردوں کے خلاف کوئی فتویٰ جاری نہیں کیا جبکہ اسلام تو مساوات کا دین ہے اور اس نے مردوں اورعورتوں کو یکساں جینے کے مواقع فراہم کیے‘۔

یہ بھی پڑھیں: ویزا کے لیے منگیتر اور دوست کی شادی کرانا جائز ہے؟ امام کعبہ سے لائیو شو میں فتوی طلب

قبل ازیں رواں برس دارالعلوم دیوبند کی طرف سے فتویٰ جاری کیا گیا تھا کہ خواتین مردوں کا فٹبال میچ نہیں دیکھ سکتیں کیونکہ کھلاڑیوں کے لباس غیر شرعی ہوتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس بھی فتویٰ جاری کیا گیا تھا جس میں خواتین کے بال کٹوانے یا آئی بروز بنوانے کے عمل کو غیر شروع قرار دیا گیاتھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں