The news is by your side.

Advertisement

واٹس ایپ گروپ چھوڑنے پر خاتون کی لمبی تمہید، سوشل میڈیا پر مقبول

اہل خانہ اور حلقہ احباب سے رابطہ رکھنا ویسے تو مشکل کام نہیں تھا تاہم سائنسی ترقی نے اسے اور آسان بنا دیا ہے، واٹس ایپ کا فیملی گروپ چھوڑنا بہت مشکل کام ہے مگر خاتون صارف نے گروپ چھوڑنے کے چلینج کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے ایک لمبی تمہید تحریر کر ڈالی۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں رابطہ کار کی ایجادات نے اہل خانہ سے رابطے رکھنا بہت آسان کردیا ہے کیونکہ اب کسی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے مہینوں یا ہفتوں خط کا انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ کوئی بھی شخص دنیا میں کہیں بھی ہو اُسے با آسانی پیغام بھیجا جاسکتا ہے۔

ٹیلی فون کے بعد موبائل کی ایجاد نے رابطہ کار کے کام کو آسان بنایا تاہم سائنسی دنیا میں ہر روز آنے والے نئے انقلاب نے اسے مزید تقویت بخشی، اسمارٹ فون آنے کے بعد رابطے بحال رکھنے کےلیے میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے بڑا کردار ادا کیا۔

واٹس ایپ پر رابطے بحال رکھنے کے لیے گروپس تشکیل دیے جاتے ہیں، دفاتر یا خاندان کے لوگ تمام افراد کو ایک ساتھ رکھنے کے لیے گروپ تشکیل دیتے ہیں تاہم سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ خاندان کے گروپ کو چھوڑنا کسی بھی صارف کے لیے سب سے مشکل ترین کام ہوتا ہے۔

اگر کوئی صارف گھر والوں کا تشکیل کردہ گروپ چھوڑ دے تو اُس سے کئی سوالات کیے جاتے ہیں اسی وجہ سے اکثر لوگ فیملی گروپ کو خاموشی (سائلنٹ) پر لگا کر رکھتے ہیں۔

ناماہ نامی صارف نے گھر کا گروپ چھوڑنے سے قبل ایک تفصیلی نوٹ تحریر کیا جس میں انہوں نے گروپ چھوڑنے کی وجوہات تحریر کیں، انہوں ممبران سے معافی مانگتے ہوئے تحریر کیا کہ میں یہاں شیئر ہونے والی جعلی خبروں سے عاجز ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ہر کسی کے پاس اپنی حدود کا اختیار موجود ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس گروپ کو چھوڑ کر چلی جاؤں۔ ناماہ نے ٹوئٹر پر اپنا واٹس ایپ نوٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے فیملی گروپ چھوڑ کر بڑی کامیابی حاصل کی۔

خاتون کی جانب سے پیش کی جانے والی وجوہات کو صارفین نے بہت پسند کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں