The news is by your side.

نقیب کیس: مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی ہوائی فائرنگ اور شیلنگ

کراچی:نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خلاف شرو ع ہونے والی سوشل میڈیا مہم نے اب عملی احتجاج کی شکل اختیار کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں عوام کی جانب سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔

لاہور میں نقیب اللہ  سے اظہاریک جہتی کے لیے لیبرٹی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ حیدرآباد پریس کلب پر پولیس مقابلے کا نشانہ بننے والے نوجوان کے لیے سول سوسائٹی نے آواز اٹھائی۔

البتہ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ کراچی میں سپر ہائے وی پر کیا گیا۔ مظاہرین نے نقیب کے لیے بینر اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین نے ٹائر جلا کر سڑک بلاک کر دی اور راؤ انوار کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے باعث سہراب گوٹھ سے الاآصف اسکوائرجانے والا روڈ بند ہوگیا۔

بعد ازاں کراچی سپرہائی وے پرمظاہرین کومنتشرکرنے کے لیے پولیس نے ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کی، جس کے جواب میں مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھرائو کیا گیا۔

چیف جسٹس کا نقیب اللہ محسود کے قتل کا ازخود نوٹس

واضح رہے کہ نقیب اللہ کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ اس ضمن میں آج کالعدم تنظیموں کے تین ارکان سے جیل میں پوچھ گچھ کی گئی۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس نے مبینہ مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت کا ازخودنوٹس لے کر آئی جی سندھ سے7دن میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق اب سپرہائی وے پر جاری مظاہرہ ختم کر دیا گیا ہے اور دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں