The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ قتل کیس، ملیرسٹی تھانے کا اہلکار جمیل عباسی گرفتار

کراچی : نقیب محسود قتل کیس میں پولیس نے ملیر سٹی تھانے کے اہلکار جمیل عباسی کو گرفتارکرلیا۔ جمیل عباسی ایس ایچ او شاہ لطیف کے گارڈ کی ڈیوٹی بھی کرتا تھا جبکہ مفرور راؤ انوار تاحال قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق جعلی مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل کے معاملہ پر پولیس معطل ایس ایس پی راؤ انوارتک نہ پہنچ سکی، پولیس نے کراچی کے علاقے قائد آباد میں کارروائی کی، جس میں سی ٹی ڈی اور انویسٹی گیشن پولیس نے مشترکہ طور پر چھاپہ مارا۔

چھاپے کے دوران پولیس نے ملیر سٹی تھانے کے اہلکار جمیل عباسی کو گرفتارکرلیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق جمیل عباسی ایس ایچ او شاہ لطیف ٹاؤن کیلئے گارڈ کی ڈیوٹی بھی کرتا تھا، گرفتار اہلکار کو تفتیش کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

یاد رہے دو روز قبل پولیس نے راؤ انوار کے قریبی ساتھی اور قبائلی نوجوان کو مارنے والی ٹیم میں شامل سابق ڈی ایس پی قمر احمد کو گرفتار کیا تھا۔


مزید پڑھیں : نقیب اللہ قتل کیس میں اہم پیشرفت، راؤ انوار کا قریبی ساتھی گرفتار


ذرائع کا کہنا تھا کہ قمر احمد معطل ایس ایس پی ملیر کے قریبی ساتھی اور اُن کی ٹیم کا اہم حصہ ہے، انہوں نے بطور ڈی ایس پی راؤ انوار کے ماتحت مختلف ڈویژن میں بھی کام کی ہے۔

دوسری جانب نقیب اللہ کیس میں گرفتارراؤ انوار کے تین ساتھی اہلکاروں کو انسداد دہشتگردی کی منتظم عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور عدالت نے پولیس کو چودہ روز میں چالان جمع کرانے کا حکم دیدیا۔

پولیس کا مؤقف تھا کہ گرفتار ملزمان راؤ انوار کی ٹیم کا حصہ تھے۔

تحقیقاتی افسر عابد قائمخانی کا کہنا تھا کہ نقیب کیس میں اب تک 9ملزمان گرفتار کئےجاچکے ہے ، نقیب قتل کیس میں مرکزی ملزم رائو انوار تاحال مفرور ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نقیب اللہ محسود قتل از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے راؤ انوار کو حفاظتی ضمانت دی تھی۔


مزید پڑھیں :  نقیب قتل کیس: سپریم کورٹ کا راؤ انوار کو گرفتار نہ کرنے کا حکم


واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں