نقیب اللہ کا قتل،پختون جرگہ کا 10رکنی وفد آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کرے گا
The news is by your side.

Advertisement

نقیب اللہ کا قتل،پختون جرگہ کا 10رکنی وفد آج وزیراعظم سے ملاقات کرے گا

اسلام آباد : اسلام آباد پریس کلب کے باہر نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف احتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے ، آل پختون جرگے کا دس رکنی وفد آج وزیر اعظم سے ملاقات کرے گا، عمائدین کا کہنا ہے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو چاروں صوبوں میں دھرنا دینگے۔

تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کے قاتل اب تک آزاد ہیں ، اہل خانہ اور عمائدین سراپا احتجاج ہیں ، نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا چھٹے روز بھی جاری ہے۔

پختون جرگہ کا دس رکنی وفد آج وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کرے گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی خود معاملات آگے بڑھائیں گے، پختون جرگہ نے پانچ بنیادی مطالبات پیش کئے ہیں، جن میں نقیب اللہ محسود کی ماورائے عدالت قتل میں ملوث راؤ انوار کو ساتھیوں سمیت پھانسی کی سزاء کا مطالبہ سر فہرست ہے۔

گزشتہ روز جرگے کے ساتھ ملاقات کے بعد امیر مقام اور طارق فضل چوہدری نے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔

قبائلی عمائدین کا کہنا ہے کہ چھ فروری تک مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پارلیمنٹ کے سامنےاحتجاج کیا جائے گا اور مطالبہ کیا کہمعاملے کی تحقیقات کیلئےجوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور کیس روزانہ کی بنیاد پر چلایا جائے۔

تحریک انصاف کےچیئرمین عمران خان اورجماعت اسلامی کے امیرسراج الحق بھی اظہار یکجہتی کیلئے دھرنےمیں پہنچے اور شرکاء سے خطاب کیا اور دھرنےوالوں کو بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی۔


مزید پڑھیں : نقیب اللہ قتل کیس، راؤانوار کی گرفتاری کے لیے مزید 10 دن کی مہلت


دوسری جانب سپریم کورٹ کی جانب سے راؤ انوار کی گرفتاری کےلیے دس دن کی نئی مہلت کوبھی چار دن گزرگئے لیکن سابق پولیس افسر کا دور دور تک پتہ نہیں۔

واضح رہے 13 جنوری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی سربراہی میں خطرناک ملزمان کی گرفتاری کے لیے شاہ لطیف ٹاؤن میں چھاپے کے لیے جانے والی پولیس پارٹی پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی تھی جس پر پولیس نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، ہلاک ہونے والوں میں نوجوان نقیب اللہ بھی شامل تھا۔

نقیب اللہ کی ہلاکت اور انصاف کے لیے لگایا جانے والا محسود قبیلے کا جرگہ پولیس کے خلاف شکایتی مرکز بن گیا تھا جہاں دیگر لاپتہ افراد  کے اہل خانہ بھی شکایات لے کر پہنچے تھے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں