The news is by your side.

Advertisement

نصر الدین مرات کون تھے؟

مینارِ پاکستان وہ عظیم قومی یادگار ہے جسے مسلمانانِ برصغیر کی طویل جدوجہدِ آزادی، صبر آزما دور میں‌ ہمارے اکابرین کے اپنے نظریے، علیحدہ وطن کے لیے کاوشوں اور قربانیوں کی ایک نشانی بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ مینار عین اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں 23 مارچ 1940 کو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوا تھا اور وہ قرارداد پیش کی گئی جسے قراردادِ پاکستان کا نام دیا گیا۔

کیا آپ جانتے ہیں‌ کہ مینارِ پاکستان کا ڈیزائن کس معمار کی اختراع تھا؟

پاکستان کی حکومت نے یہ کام ایک روسی نژاد آرکیٹکٹ نصر الدین مرات کو سونپا تھا جو ترک الاصل تھے۔ انھوں‌ نے تعمیرات کے شعبے میں‌ نام و مقام کمایا اور پاکستان کی تاریخ میں‌ انھیں‌ ہمیشہ اس مینار کے معمار کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا۔

نصر الدین مرات خان 1904 میں روس کے شہر داغستان میں پیدا ہوئے۔ 1930 میں لینن گراڈ یونیورسٹی سے مدنی ہندسیات کی ڈگری حاصل کی جو تعمیراتی شعبے سے متعلق علم ہے، اور معمار و شہری منصوبہ بندی کی تعلیم بھی اسی یونیورسٹی سے مکمل کی۔ انھیں‌ سیاسی بنیادوں‌ پر روس چھوڑنا پڑا اور وہ جرمنی میں سات سال گزارنے کے بعد 1950 میں اپنے خاندان سمیت پاکستان آ گئے۔

حکومت پاکستان نے اپنے وقت کے اس ماہرِ تعمیرات کی خدمات حاصل کیں اور انھوں‌ نے ہمارے وطن کی اس عظیم قومی یادگار کا ڈیزائن اور اس کے لیے اپنی تیکنیکی مہارت اور قابلیت کا مظاہرہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں