site
stats
اہم ترین

اے آروائی کی ’ایدھی‘ کی خدمات کے اعتراف میں آٹھ جولائی‘ نیشنل چیریٹی ڈے منانے کی مہم مقبول

کراچی: اے آروائی نیٹ ورک کی جانب سے ڈاکٹرعبدالستارایدھی کے یومِ وفات کو ان کی انسانی خدمات کے اعتراف کے طورپرنیشنل چیریٹی ڈے قراردینے کی قرارداد کو نہ صرف سماجی حلقوں میں بلکہ حکومت کی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے۔

اے آروائی نیٹ ورک کی اس کاوش کا اعتراف کرتے ہوئے سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ سب سے پہلے سیاست دان ہیں جنہوں نے اس قرارداد کی حمایت کی ہے۔

سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ’’ ہمارے ہر دلعزیز عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف کے لیے اے آروائی نیٹ ورک کی جانب سے اٹھایا جانے والا قدم قابلِ تحسین ہے اورہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں‘‘۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے بھی اے آروائی کے اقدام کو قابلِ قدر الفاظ سے نوازتے ہوئے اس قرارداد کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

سابق سینیٹر لشکری رئیسانی بھی اے آروائی نیٹ ورک کے اس پیغام کو آگے پہنچانے کے لیے انتہائی دلجمعی اور دلچسپی سے حصہ لے رہے ہیں۔

دریں اثنا عوام کی جانب سے بھی اس مہم میں زورو شور کے ساتھ حصہ لیا جارہا ہے اور اب تک سینکڑوں شہری اس قرارداد پر دستخط کرچکے ہیں جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آٹھ جولائی کو نیشنل چیریٹی ڈے قراردیا جائے۔

دوسری جانب وکلاء، سول سوسائٹی اور شوبزکی دنیا سے تعلق رکھنے والی مشہورو معروف شخصیات بھی اس مہم کی حمایت میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہی ہیں۔

معروف ادبی شخصیت انور مقصود نے اس حوالے سے اے آروائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالستار ایدھی کی خدمات کے اعتراف میں نیشنل چیریٹی ڈے منانا چاہیے۔

بشریٰ انصاری نے اس موقع پرعوام سے درخواست کی کہ قوم کو عظیم ایدھی کے نقشِ قدم پرچلتے ہوئے سادہ اندازِ زندگی اپنانا چاہئے۔ معروف اداکار جاوید شیخ کا کہنا تھا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ’’ایدھی کی خدمات کو زندہ رکھا جائے اورمزید جانفشانی سے سماجی کاموں کو جاری رکھا جائے۔

مذکورہ بالا معروف شخصیات کے علاوہ بھی دیگر کئی شخصیات نے سوشل میڈیا پر اے آروائی نیٹ ورک کی اس کمپئین کی حمایت میں اپنی آواز بلند کی۔

عبد الستار ایدھی 8 جولائی 2016 کو اٹھاسی سال کی عمر میں طویل بیماری کے بعد اس دنیا سے گزرگئے، انہوں نے 1951 ء میں پہلے کلینک کی بنیاد رکھی،یہ کلینک کراچی کے علاقے کھارادر میں کھولا گیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے ایسے کئی رفاحی کلینک کا جال پورے ملک میں پھیلا دیا۔

اس ادارے کا سب سے ممتاز حصہ اس کی 1500 ایمبولینس ہیں جو ملک میں دہشت گردی کے حملوں کے دوران بھی غیر معمولی طریقے سے اپنا کام کرتی نظر آتی ہیں۔

اپنی سوانح حیات ‘اے میرر ٹو دی بلائنڈ’ میں ایدھی صاحب نے لکھا، ‘معاشرے کی خدمت میری صلاحیت تھی، جسے مجھے سامنے لانا تھا۔


اپنی پٹیشن دائر کرنے کے لیے یہاں کلک کریں


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top