The news is by your side.

Advertisement

برطانوی عدالت نے ’ہٹلر‘ کے والدین کو قید کی سزا سنا دی

لندن : برطانوی عدالت نے نومولود بچے کا نام ’ہٹلر‘ رکھنے اور ’سواستیکا‘ کے ساتھ تصویر بنوانے والے والدین کو 6 برس قید کی سزا سنا دی۔

تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے ایک جوڑے کو اپنے بیٹے کا نام جرمن آمر ’ہٹلر‘ کے نام پر رکھنا مہنگا پڑگیا، برمنگھم کی ایک عدالت نے 22 سالہ ایڈم تھامس اور 38 سالہ کلاڈیو پر نازی گروہ نیشنل ایکشن کا رکن ہونے کا الزام ثابت پر نومولود بچے کے والدین کو سزا سنا دی۔

پولیس نے جوڑے کو نئی طرز کی دہشت گردی کا مرتکب ٹھہرایا ہے، جس پر عدالت نے نومولود بچے کے والد کو 6 سال چھ ماہ اور ماں کو 5 برس قید کی سزا سنائی ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ جوڑے کو سزا صرف بیٹے کا نام ہٹلر رکھنے پر نہیں دی گئی بلکہ ان کا تعلق ایک نیشنل ایکشن نامی پارٹی کالعدم جماعت ہے جو ہٹلر کو اپنا لیڈر کہتی ہے، برطانیہ میں 2016 میں اس جماعت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد جوڑے نے ایک تصویر بھی بنوائی، جس میں انھوں نے نازی پارٹی کا پرچم تھام رکھا تھا، جوڑے نے نازی فوج کے انداز میں‌ سلوٹ‌ بھی کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچے کا نام ہٹلر رکھنے والے والدین کی تشدد اور نسل پرستی کے عقائد کی تاریخ طویل ہے، ایڈم نے بتایا کہ انہیں بچپن میں اپنے والد کی وجہ سے نسل پرستی کی تعلیم ملی۔

مزید پڑھیں : ہٹلر کے والدین مجرم قرار، برمنگھم کی عدالت جمعے کو سزا سنائے گی

عدالت میں پولیس کی طرف سے پیش کئے گئے شواہد میں ایڈم کے گھر سے ملنے والا مواد بھی شامل تھا، جس میں بم بنانے کا طریقہ درج تھا، اس کے علاوہ اس جوڑے کے گھر سے نازی لٹریچر اور کلہاڑا بھی برآمد ہوا۔

عدالت نے جوڑے کے قریبی دوست ڈیرن فیلچر کو بھی شدت پسندانہ خیالات رکھے کی پاداش میں 5 برس قید کی سزا سنائی ہے جسے ایک سفید انتہاپسند کے طور پر شناخت کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ہٹلر کا لباس زیب تن کرنے پر امریکی شہری کو دھمکیاں

رپورٹ کے مطابق بچے کانام ہٹلر رکھنے اور شدت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے پر اس کے والدین سمیت چھ افراد کو سزائیں دی گئیں۔

یاد رہے کہ 1939 میں ہٹلر کی جانب سے پولینڈ پر جارحیت دوسری جنگ عظیم کے آغاز کا باعث بنی، جس میں‌ لاکھوں افراد لقمہ اجل بنے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں