The news is by your side.

Advertisement

ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اعلان پر نیٹو چیف نے خبردار کردیا

نیٹو چیف نے افغانستان سے عجلت میں اتحادی افواج کو نکالنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو خطرناک قرار دے دیا۔

ایک بیان میں نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینس اسٹولن برگ نے کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی افواج کے جنگ زدہ افغانستان سے انخلا کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہمیں ایک مشکل فیصلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے ہم افغانستان میں تقریبا 20 سال سے ہیں ، اور نیٹو کا کوئی اتحادی ضرورت سے زیادہ طویل عرصہ تک نہیں رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بہت جلد یا انخلا کا غیر منظم راستے کی قیمت بھی بہت بھاری ہوسکتی ہے۔

نیٹو چیف نے صدر ٹرمپ کی جانب سے قابل ذکر تعداد کی واپسی کے بیان پر خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں سے ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

امریکی فوجی دستوں کی واپسی اس امن معاہدے کا ایک حصہ ہے جو سبکدوش ہونے والی ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں طالبان کے ساتھ دستخط کیا تھا۔ افغان مسلح گروپ نے امریکی سلامتی کے مفادات کی ضمانت دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن حالیہ دنوں میں ملکی و غیر ملکی افواج پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

نیٹو کے پاس افغانستان میں 12 ہزار سے کم فوج ہے جو قومی سلامتی کے دستوں کو تربیت دینے اور مشورے دینے میں معاونت کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں