The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف کی پہلی میڈیکل رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع

لاہور : سابق وزیراعظم نواز شریف کی پہلی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کرادی گئی ، جس میں کہا گیا میاں نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کی جا رہی ہے، وہ علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں۔

تفصیلات کے مطابق میاں نواز شریف کی صحت کے متعلق پہلی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کروا دی گئی ، رپورٹ ان کے وکیل امجد پرویز نے ایڈیشنل رجسٹرار آفس میں جمع کروائی، پیش کی گئی رپورٹ پاکستانی ہائی کمیشن سے تصدیق شدہ ہے۔

برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن سے تصدیق شدہ سابق وزیراعظم کی میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا کہ نوازشریف کو متعدد بیماریوں کا سامناہے، نواز شریف کو بظاہر آئی ٹی پی کی بیماری ہے، پلیٹ لیٹس کنٹرول میں نہ آئے تو جسم میں زہریلے مواد کی تشخیص کیلئے ٹاکسیکالوجی اسکریننگ کی جائے گی۔

مزید پڑھیں : نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ کل جمع کرانے کی ہدایت

رپورٹ میں بتایا گیا فالج سے بچاؤ کیلئے دماغ کو خون منتقل کرنے والی شریان کا علاج زیر غور ہے، حتمی تشخیص تک ڈاکٹروں کی زیرنگرانی رہنا ہوگا، ڈاکٹروں نے نوازشریف کو دن میں دو بار واک کا مشورہ دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان کے پلیٹ لیٹس مستحکم کرنے کے لیےعلاج جاری ہے، محفوظ علاج کے لیے 50 ہزارسے ڈیڑھ لاکھ پلیٹ لیٹس ہونے چاہئیں ، بائی پاس کے بعد نوازشریف کی طبیعت بہتر ہے مگر شریانوں میں مسائل ہیں، نوازشریف کے دل کی ایم آر آئی بھی ہو رہی ہے۔

گذشتہ روز نوازشریف کے وکیل امجد پرویز کی جانب سے میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تاہم عدالتی وقت ختم ہونے پر رپورٹ وصول نہ کی جاسکی تھی، جس کے بعد ہائی کورٹ آفس نے رپورٹ کل جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف 19 نومبر سے علاج کی غرض سے لندن میں مقیم ہیں جہاں ان کے مسلسل ٹیسٹ اور طبی معائنہ کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے دماغ کو خون پہنچانے والی شریان 88 فیصد بند

یاد رہے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا تھا  کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس کا مسئلہ بے قابو ہے، انہیں دل، شوگر اور شریانوں کی بیماری لاحق ہیں۔

اس سے قبل ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دماغ کو خون پہنچانے والی شریان 88 فیصد بند ہے، ڈاکٹرز نے امریکا میں علاج کی تجویز دی ہے، ڈاکٹرز شوگر ان کی مقدار اور پلیٹ لیٹس کے توازن کو اعتدال میں لانے کی کوشش کررہے ہیں تاہم پلیٹ لیٹس کی مقدار میں مسلسل کمی کی وجوہات اب تک معلوم نہیں ہوسکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں