The news is by your side.

Advertisement

میرے کالج دور کا حساب ہو رہا ہے، لاڈلے کو چھوڑ دیا گیا: نواز شریف

لاہور: مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بار پھر عدلیہ اور عدالتی فیصلوں کا سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرے کالج دور کا حساب کیا گیا جبکہ لاڈلے کو چھوڑ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ ن کا سوشل میڈیا کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں نے وعدہ کیا تھا لوڈ شیڈنگ کو دفن کردوں گا، آج لوڈ شیڈنگ دفن ہو رہی ہے یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ’نواز شریف ہمیشہ مشکل کام میں ہاتھ ڈالتا ہے اور اسے پورا کرتا ہے۔

انہوں نے حسب معمول سپریم کورٹ سے اپنی نا اہلی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف فیصلے کے بعد بدقسمتی سے ملک میں ترقی رک گئی۔ میرے خلاف فیصلے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر آپ دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نیچے جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیاملک میں ایسی عدالت وجود میں آئے گی جو مشرف سےجواب مانگے گی؟ آئین توڑنے کا مقدمہ مشرف کے خلاف درج کروایا۔ مشرف کے خلاف مقدمے کا فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ تو مہینوں نہیں ہفتوں میں کردیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ ایسا ملک ہو جہاں انصاف کا ترازو واقعی انصاف کا ترازو ہونا چاہیئے۔ منتخب وزیر اعظم کو اس لیے نہ ہٹایا جائے کہ بیٹے سے خیالی تنخواہ نہیں لی۔ ’میرے والد، بچوں اورخاندان کا حساب کیا جاتا ہے، دوسروں کےحساب کی باری آئی تو کہتے ہیں 5 سال سے اوپر نہ جانا۔ ’حساب مانگنے کی باری آئی تو لاڈلے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کی منصفانہ کارروائی ہر انسان کا حق ہے لیکن پاکستان میں نہیں۔ دنیا میں سزا پانے والے کو اپیل کا حق ہے لیکن پاکستان میں نہیں۔ ’ہیں نئی روش کی عدالتیں، ہیں نئے ضبط کے یہ فیصلے، نہ اپیل ہے نہ دلیل ہے نہ وکیل ہے‘۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسا بنا دیا گیا جہاں کچھ کی آف شور کمپنیاں حرام اور کچھ کی حلال ہیں۔ ’ایک شخص کے 50 سال کے کاروبار کو کھنگالا جا رہا ہے، ایک شخص کے لیے کہا جاتا ہے 5 سال سے اوپر نہیں جانا۔ انصاف کے 2،2 معیار رکھے گئے ہیں‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں