spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچا کر کہتے ہیں یوتھ ہمارے ساتھ ہے، نواز شریف

گوجرانوالہ: قائد مسلم لیگ (ن) نواز شریف نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی مچا کر کہتے ہیں یوتھ ہمارے ساتھ ہے۔

جلسے سے خطاب میں نواز شریف نے کہا کہ یوتھ وہ ہے جو میرے سامنے بیٹھی ہوئی ہے، اصل یوتھ وہ ہے جو بڑے چھوٹے کا ادب کرتے ہیں، جب تک اس اصل یوتھ کو روزگار نہیں ملتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

نواز شریف نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کہہ رہا ہے نواز شریف کے دور میں کرپشن سب سے کم تھی، صرف کرپشن نہیں بلکہ روٹی، آٹے اور چینی کی قیمت بھی سب سے کم تھی، میرے دور میں پیٹرول اور بجلی کی قیمت بھی سب سے کم تھی، لوڈشیڈنگ بھی ہم نے ختم کی اور غربت بھی ختم ہو رہی تھی، ہمارے دور میں اسٹاک ایکسچینج 54 ہزار پر چلی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کہا تھا پاکستان اسی رفتار سے ترقی کرتا رہا تو آئندہ آئی ایم ایف کی ضرورت نہیں ہوگی، میرے دور میں سی پیک آیا اور 60 ارب کی سرمایہ کاری ہو رہی تھی، یہ دھرنے کر رہے تھے اور ہم کام کر رہے تھے، سارے ترقیاتی کام شہباز شریف نے کیے نام میرا لگا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چیف جسٹس بننے والا جج استعفیٰ دے کر گھر چلا گیا اس نے مجھے سزا دلوائی تھی، استعفیٰ دینے والے جج نے بطور وزیر اعظم میری چھٹی کروائی، اگر وہ دور رہتا تو دعوے سے کہتا ہوں یہاں مجمع میں کوئی بے روزگار نہیں ہوتا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا دور رہتا تو لوگ خوشحال ہوتے ایک دوسرے سے ادھار نہ مانگتے ہوتے، نواز شریف کے دور میں چھوٹی گاڑی 5 سے 10 لاکھ روپے میں آتی تھی، میرے دور میں ڈالر 104 روپے کا تھا اور آج 290 کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھبرانا نہیں ہے نواز شریف چین سے بیٹھنے والا نہیں، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان پاؤں پر کھڑا نہیں ہو جاتا، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے ، اسکول  اور اسپتال بنیں گے۔

Comments

- Advertisement -