spot_img

تازہ ترین

امریکا وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ مشترکہ مفادات آگے بڑھانے کا خواہاں

واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھو ملر...

وزیراعلیٰ کے پی آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کریں گے

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج اڈیالہ جیل...

الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کی درخواست مسترد کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کی...

شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا حلف اٹھالیا

اسلام آباد : شہباز شریف نے وزیراعظم کےعہدے کا...

بلاول بھٹو کی ‘چھ چھ مرتبہ منتخب ہونے والے بزرگوں’ سے اپیل

اسلام آباد : چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے...

دو دن بعد جو سورج طلوع ہوگا وہ خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا، نواز شریف

قصور: مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ دو دن بعد جو سورج طلوع ہوگا وہ پاکستان کے لیے خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق قصور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ ہمیں بہت ٹھوکریں لگی ہیں ہم نے بہت ٹھوکریں کھائی ہیں، کوئٹہ پشاور، لاہور اور کراچی والے بھی سن لیں پورا ملک خوشحال ہوتا، ہمیں ان مشکلوں سے باہر نکلنا ہے پھر ترقی کی دوڑ میں شامل ہونا ہے، ہم نے پھر سے ایشین ٹائیگر بننا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قصور نے کیا قصور کیا ہے جو یہاں یونیورسٹی نہیں بنے گی، شہباز شریف ان کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہونا چاہیے، یہاں بڑا خوبصورت اسٹیڈیم بننا چاہیے اور اوپننگ بیٹسمین میں ہوں گا، کوٹ رادھا کشن کو بھی یہ تمام چیزیں ملنی چاہیے۔

نواز شریف نے کہا کہ کہتے تھے 50 لاکھ گھر بناکردیں گے، ایک بندا ہاتھ کھڑا کرے جسے کوئی گھر ملا ہو، کہاں گئے وہ 50 لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں، کوئی بتائے کسی کو ایک نوکری ملی، اربوں روپے کے بلین ٹری لگائے کہاں گئیے، 350 ڈیم کہاں گئے، کہیں ڈیم نظر آئے، وہ انڈے، مرغیاں، کٹے کہاں گئے سب فراڈ تھا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں 5 لاکھ کی گاڑی، موٹر سائیکل 70 ہزار کی ملتی تھی، ہمارے دور میں سونا کتنا سستا تھا، یہ فراڈ لوگ تھے ہم ان فراڈیوں کو دوبارہ نہیں آنے دیں گے، ملک کو ہم دوبارہ ڈگر پر لائیں گے دوبارہ تعمیر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نوجوان بیٹوں، بیٹیوں کو لیپ ٹاپ دیں گے، ہم نوجوانوں کو ہنر بھی سکھائیں گے اور باعزت روزگار بھی دیںگے۔

نواز شریف نے کہا کہ جب میرا دور تھا تو ملک میں خوشحالی تھی، یہ دھرنوں میں مصروف تھے ہم لوڈشیڈنگ ختم کرنے، موٹروے بنانے، سستی کھاد دینے میں مصروف تھے۔

Comments

- Advertisement -