The news is by your side.

Advertisement

ایون فیلڈ ریفرنس: نوازشریف، مریم نوازکو آج کی حاضری سے استثنیٰ مل گیا

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نوازکو ایون فیلڈ ریفرنس میں آج کی حاضری سے استثنیٰ مل گیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے کی۔

احتساب عدالت میں سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل اسلام آباد آنے کے لیے ایئرپورٹ آئے تاہم خراب موسم کی وجہ سے پائلٹ کو جہاز اڑانے کی اجازت نہ مل سکی۔

خواجہ حارث نے عدالت سے درخواست کی کہ آج نوازشریف اور مریم نواز کی حاضری کے لیے استثنیٰ دیا جائے جس پر معزز جج نے نوازشریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے استفسار کیا کہ کیا تیسراملزم عدالت میں موجود ہے جس پر خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی کیپٹن ریٹائرڈ صفدرعدالت میں موجود ہیں۔

سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث کی واجد ضیاء پر جرح

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے سوال کیا کہ دبئی کورٹ سے خط کا جواب آیا اس میں میوچل لیگل ریکویسٹ کا حوالہ دیا گیا؟ جس پر واجد ضیاء نے جواب دیا کہ خط کے مطابق یہ بات درست ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کہیں نہیں لکھا میوچل لیگل ریکویسٹ کے ساتھ کوئی دستاویز لگائی گئیں، استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ یہ درست ہے درخواست کے ساتھ کوئی کاغذ نہیں لگایا گیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ ہم نے 4 ایم ایل اے بھیجے تھے، دو کا تعلق گلف اسٹیل کی خرید وفروخت کے معاہدے سے تھا، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ دبئی کورٹ سسٹم، دبئی کسٹم، سینٹرل بینک سے متعلق دستاویزنہیں لگائی گئیں؟۔

استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ یہ بات درست ہے کہ دستاویزنہیں لگائی گئیں، نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ جوخط لکھا اس پرسوال نمبر 2،3,4 سے متعلق دستاویز نہیں لگائی گئیں۔

جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ خط میں موجود 3 سوالوں سے متعلق کوئی دستاویزات نہیں لگائی گئیں۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے سوال کیا کہ جن ججزکے خط پردستخط ہیں کیا جے آئی ٹی بیان لینے دبئی گئی، واجد ضیاء نے جواب دیا کہ نہیں کوئی جے آئی ٹی ممبربیان لینے نہیں گیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کنفرم کیا خط پردستخط جج عبدالرحمان مراد کے ہی ہیں، استغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی کے کسی رکن نے جج صاحب سے رابطہ نہیں کیا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ جج نےکبھی نہیں لکھا ان کا ذاتی علم ہے ریکارڈ دبئی کورٹ میں موجود نہیں ہے، واجد ضیاء نے کہا کہ یہ بات کبھی نہیں لکھی گئی کہ جج صاحب کے ذاتی علم میں کچھ ایسا تھا۔

نوازشریف کے وکیل نے سوال کیا کہ یہ بات بھی نہیں لکھی گئی دبئی کسٹم یا سینٹرل بینک سے معلومات لی گئیں؟ جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ یہ بات درست ہے جج عبدالرحمان نے یہ بات بھی کبھی نہیں لکھی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کیا تحقیقات میں آپ کے نوٹس میں آیا سروے کا سائٹ پلان بھی ہے جس پر واجدضیاء نے جواب دیا کہ جی بالکل سائٹ پلان بھی موجود تھا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ کیا جےآئی ٹی نے اس سائٹ پلان کی کوئی تحقیقات کیں، استغاثہ کے گواہ نے بتایا کہ سائٹ پلان کے متعلق مزید کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں۔

احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے معزز جج سے استدعا کی کہ گواہ جوبھی جواب دے پورا دے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جو جواب دیں ایک باردیں اوراچھی طرح سوچ کردیں، کیا کسی گواہ نے کہا ہالی اسٹیل مل 1978 سے 1980 مییں سیل ہوئی؟ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ طارق شفیع نے کہا کہ ہالی اسٹیل مل سیل ہوئی۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ کیا کسی گواہ نے بتایا25 فیصد شیئربیچے گئے تھے، گواہ کے لیے دوران سماعت جج کی جانب سے بھی سوال دہرایا گیا۔ جے آئی ٹی سربراہ نے جی ہاں کا جواب دیا۔

سابق وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ شہادت آئی جس سے پتہ لگے شیئرز 78سے 80 کے درمیان بیچے گئے جس پراستغاثہ کے گواہ نے جواب دیا کہ نہیں ایسی کوئی شہادت نہیں آئی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی ابہام ہےتو کلیئرکرلیں، ایسی کوئی دستاویزآئی جس میں کہا ہوکہ یہ مصدقہ ہے، جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ ایسی کوئی دستاویزنہیں آئی جس میں کہا ہوکہ یہ مصدقہ ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے دوران سماعت خواجہ حارث سے کہا کہ پہلے پورا جواب آنے دیا کریں پھرلکھوایا کریں، سوال بھی بڑا کرتے ہیں پھرجواب آتا ہے توپورا سنتے نہیں ہیں۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث دوران سماعت ناراض ہو کر اپنی نشست پربیٹھ گئے، انہوں نے کہا کہ میرا سوال یہ ہے کہ کوئی ثبوت آیا یا نہیں۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے جواب دیا کہ طارق شفیع نے بی سی سی آئی بینک میں دوسرا اکاؤنٹ کھلوایا، خواجہ حارث نے سوال کیا کہ بینک کی بات کررہے ہیں کسی بینک کا ریکارڈ ہے؟۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے نہیں کا جواب دیا، خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی ثبوت ہے جس سے پتہ لگے طارق شفیع نے رقم سیٹ کی جس پر جے آئی ٹی سربراہ نے ایک مرتبہ پھر نہیں کا جواب دیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جےآئی ٹی نے تحقیقات کیں کہ25 فیصد شیئرزکا کیا ہوا، واجد ضیاء نے جواب دیا کہ 25 فیصد شیئر1978 سے 1986 کے درمیان بیچے گئے، شیئرزسے حاصل رقم کو14 ملین درہم واجب الادا کے لیے استعمال کیا گیا۔

استغاثہ کے گواہ نے کہا کہ شیئرزسے حاصل رقم کودبئی میں نئے کاروبار کے لیے استعمال کیا گیا، 1980 سے 1994 تک کاروبارکے لیے طارق شفیع نےقرضہ لیا، 14 اپریل 1980 کا شیئرزفروخت کرنے کا معاہدہ موجود ہے۔

نواشریف کے وکیل نے کہا کہ اس معاہدے کوتوآپ نے جعلی قراردے دیا ہے، واجد ضیاء نے کہا کہ 25 فیصد شیئرزکی فروخت سے متعلق براہ راست ثبوت حاصل نہیں کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ نے کہا کہ نئے قرضے کے اجرا سے ظاہرہوتا ہے 14ملین درہم کی ادائیگی کی گئی، خواجہ حارث نے کہا کہ کیا طارق شفیع کی طرف سے قرض کی رقم ادا کی گئی کا ریکارڈ لیا گیا۔

استغاثہ کے گواہ واجد ضیاء نے کہا کہ جے آئی ٹی نے ایسا کوئی ریکارڈ حاصل نہیں کیا، جےآئی ٹی نے کسی بینک افسرکا بھی بیان قلمبند نہیں کیا۔

جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے کہا کہ یہ میرے علم میں ہے کہ سپریم کورٹ میں دوران سماعت وکلا کو جے آئی ٹی رپورٹ کا والیم 10 دکھایا گیا جبکہ عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کی درخواست پروالیم 1 کو سربمہر کیا تھا۔

بعدازاں احتساب عدالت نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کل صبح ساڑھے نو بجے تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں