The news is by your side.

Advertisement

جس نےآئین اورقانون کوتوڑااس کوواپس بلانےکی جرات نہیں، نوازشریف

اسلام آباد : نااہل وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ جس نےآئین اورقانون کوتوڑا اس کو واپس بلانے کی جرات نہیں، کئی کئی سال کیسز کے فیصلے نہیں ہوئے،میرا کیس چھ ماہ میں ختم کرنے کا کہہ دیا ہے، ریفرنس پرریفرنس کی کیا وجہ، شواہد نہیں تو معاملہ ختم کریں۔

تفصیلات کے مطابق نااہل وزیراعظم نوازشریف نے صحافیوں اور کارکنان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلےکوکسی نےقبول نہیں کیا، فیصلہ دینے والے ججز بھی جانتے ہیں فیصلہ کسی نے قبول نہیں کیا، کچھ بن نہیں پارہا تو ضمنی ریفرنس لائے جارہے ہیں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ قوم کوحقائق کاپتہ چلنے دیں،کور کرنے کی کوشش کیوں ہورہی ہے، جس نےآئین اورقانون کوتوڑااس کوواپس بلانےکی جرات نہیں، یہ انصاف کا کیسا معیار ہے کوئی تومجھے بھی سمجھائے، مسلم لیگ ن پوری طرح متحدہے، ہمیں جوپذیرائی مل رہی ہے وہ عوامی اتفاق کا ثبوت ہے۔

نااہل وزیراعظم نے کہا کہ صرف مجھے ہی فوری انصاف مل رہاہے، عام آدمی کیساتھ میرانام لکھ دیاجائےتواسےبھی انصاف مل جائیگا، سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مجھے کوئی خدشہ نہیں ، نجومی تو نہیں مگرسینیٹ الیکشن ہونےچاہئیں اورہونگے، ساراسسٹم اوور ہال ہونا چاہئے،غریب اس سےتنگ ہے، انصاف کی قطارمیں کھڑے لوگوں کومایوسی کا سامنا ہے۔


مزید پڑھیں : عوام کوپتا ہے کہ عمران خان کتنے صادق اور امین ہیں: نواز شریف


انکا کہنا تھا کہ جوڈیشل سسٹم میں ریفارمزکی ضرورت ہے، کئی کئی سال کیسز کےفیصلے نہیں ہوتے، میرا فیصلہ تو 6ماہ میں کرنےکاکہہ دیاگیا، ریفرنس پر ریفرنس لائے جارہے ہیں کیا وجہ ہے؟ سب کچھ مکمل ہو گیا ہے کیس کا فیصلہ ہونا چاہیے۔

زنیب اور عاصمہ کے حوالے سے نااہل وزیراعظم نے کہا کہ زینب کے معاملے پر سیاست نہ کی جائے، سیاست کرنیوالےمردان میں عاصمہ کے واقعے کی بھی خبر لیں۔

عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ججزمیرااتناخیال کررہےہیں سوائے میرے کوئی کام نہیں، میں ان ججز کی بات کر رہا ہوں جو بینچ میں تھے ججز اسپتالوں میں ضرور جائیں مگراپنے گھر کی بھی خبر لیں۔

انکا کہنا تھا کہ تحقیقات کرنے والے باہر جاکر کن لوگوں سے ملتے ہیں، شواہد نہیں ملتے توختم کریں اس معاملے کو اور کتنا وقت چاہیے، ریفرنس ہمارےخلاف بن رہےہیں،نیب والے کیا کھیل کھیل رہےہیں، عدالتی فیصلےکوہم نےقبول نہیں کیااورقوم نےبھی مستردکیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اقامہ کی خفت مٹانےکیلئےنیب کورٹسےسزا کی کوشش ہورہی ہے، بڑایقین تھا کیس میں کچھ نہیں،پیسےکی خوردبردکی نہ ہی کمیشن لیا، دودھ کادودھ پانی کا پانی ہور ہاہےاس کو ہونے دیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں