The news is by your side.

Advertisement

جب عمل ہی نہیں‌ کرنا تھا، تو پھر آئین بنانے کی کیا ضرورت تھی: نواز شریف

ن لیگ نے شروع ہی سے فاٹا انضمام کی حمایت کی، خواہش تھی یہ کام جلد از جلد ہوجائے

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ن لیگ نے شروع ہی سے فاٹا انضمام کی حمایت کی، خواہش تھی یہ کام جلد سے جلد ہوجائے.

ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں‌ فاٹا یوتھ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ فاٹا کا خیبرپختونخواہ میں انضمام بڑا کارنامہ ہے، جو پہلے ہونا چاہیے تھا. فاٹا کےعوام نئی شروعات کرنے جارہے ہیں.

نوازشریف نے مزید کہا کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات بھی ساتھ ہی ہوجائیں، توخوشی ہوگی، صوبائی انتخابات ساتھ ہونا ناممکن نہیں، ابھی دو ماہ باقی ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ ہم 70 سال میں اپنے نظام کا تعین نہیں کر سکے، آئین کو کبھی توڑا اور کبھی معطل کیا گیا، ہم آج تک آئین پرعمل درآمد بھی نہیں کراسکے. منتخب حکومت کو کن حالات سےگزرنا پڑتا ہے سب دیکھ رہے ہیں.

انھوں نے کہا کہ فاٹا کے نوجوان کبھی اپنےحقوق پرسمجھوتا نہیں کریں، فاٹا کے عوام کو جوحقوق ملے، وہ غصب نہیں ہونے چاہیے، فاٹا کے عوام کو ملنے والے حقوق کا فائدہ پاکستان کو پہنچے گا.

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں بھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگنا چاہیے، جو سیاست کریں، خوددار سیاست کریں، کسی کے ماتحت نہ کریں، کسی کے آگے جھک کر نہیں، بلکہ اپنے ضمیرپر سیاست کریں.

نواز شریف نے کہا کہ آئین بنانے کی کیا ضرورت تھی، اگر اس پر عمل نہیں کرنا تھا، کیا ضرورت تھی آئین بنانے کی، اگرملک پر آمریت مسلط کرنی تھی.


ہم اپنے کیے کے ذمہ دار ہیں، ہم تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چھوڑ کرگئے تھے، نواز شریف


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں